fruit افغانستان سے تازہ پھلوں کی درآمد معطل، پاکستانی تاجروں کو مشکلات
The news is by your side.

Advertisement

افغانستان سے تازہ پھلوں کی درآمد معطل، پاکستانی تاجروں کو مشکلات

چمن : افغانستان سے پاکستان درآمد کیے جانے والے تازہ پھل اور دیگر اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے سے پاکستانی تاجر سخت مشکلات سے دوچار ہوگئے، چمن کے راستے تازہ پھلوں کی درآمد عارضی طور پر معطل ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تازہ پھلوں پر ریگولیٹری بڑھانے سے پاکستانی تاجرمشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں، جس کے باعث افغانستان سے پاکستان تازہ پھلوں کی درآمد عارضی طور پر معطل ہوگئی ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے رہنما انجیئنر داورخان اچکزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے فریش فروٹ اور دیگر اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے زرمبادلہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ڈیوٹی عائد کرنے سے براہ راست بھارت کو فائدہ ہوگا اور بھارت افغانستان کے ساتھ اپنی تجارت مزید بڑھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کے سامان کو ٹیکس فری کیا ہوا ہے، سارا سامان ٹرانزٹ کے ذریعے بھارت جا رہا ہے، داور خان اچکزئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ بھارت نواز فیصلہ ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔

کسٹم حکام کے مطابق انار کے ایک ٹرک پر ٹیکس62ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے ہو گیا، انگور کے ایک ٹرک کا ٹیکس72ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ بیس ہزار ہو گیا، ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھنے کے ساتھ دیگر متفرق ٹیکسز بھی بڑھ گئے۔

کسٹم حکام کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان سے فریش فروٹ کی درآمد عارضی طور پر معطل ہو گئی، کسٹم حکامچمن: کسٹم ہاؤس میں دو روز کے دوران ڈھائی سو سے زائد ٹرک کھڑے ہو گئے۔

کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ افغانستان سے دو سو زائد فریش فروٹ کے ٹرک آتے ہے، فریش فروٹ کی درآمد بند ہوئی تو قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے، اور سندھ پنجاب و دیگر شہروں میں انگور اور انار کی قیمت دگنی ہو جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں