site
stats
بزنس

ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کے بعد پھلوں کی درآمد عارضی طور پر معطل

چمن: حکومت نے پرتعیش درآمدی اشیا اور پھلوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا تو چمن بارڈر پر کسٹم حکام نے تازہ پھلوں کے سینکڑوں ٹرک روک لیے جس کے بعد پھلوں کی درآمد عارضی طور پر معطل ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز حکومت نے 356 اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا تھا جس کے بعد کسٹم حکام نے پھلوں سے لدے سینکڑوں ٹرک چمن بارڈر پر روک لیے۔

سرحد پر روک لیے جانے کے بعد کسٹم ہاؤس پر 250 سے زائد ٹرکوں کی لائن لگ گئی۔ ملک کے کئی شہروں میں انار اور انگور کی قیمت دگنی ہوگئی۔

یاد رہے کہ افغانستان سے روزانہ پھلوں کے 200 سے زائد ٹرک آتے ہیں۔ کسٹم حکام فی ٹرک دوگنے ٹیکسوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے سے دیگر ٹیکسوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق افغانستان سے تازہ پھلوں کی درآمد عارضی طور پر معطل کردی گئی ہے جس کے بعد امکان ہے کہ اب ڈیوٹی بڑھنے سے بازار میں بھی پھلوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز غیر ضروری درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 50 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: تجارتی خسارے میں کمی کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق ڈیوٹی میں اضافے سے درآمدی بل میں 2 ارب ڈالر تک کی کمی متوقع ہے جبکہ اضافی ٹیکس وصولی میں 40 ارب روپے تک اس کے علاوہ ہے۔

نئی پالیسی کے تحت گاڑیاں، موبائل، فرنس آئل، ٹائرز پر زائد ٹیکسوں کا اطلاق ہوگا۔ الیکٹرانک کے سامان پر بھی ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے۔ درآمدی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top