The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی قدیم ترین ہاؤسنگ اسکیم، ماہانہ کرایہ 14 روپے

جرمن علاقے فوگری (فوگیرائے) کی رہائش گاہیں اب یہاں آنے والے سیاحوں کی نگاہوں کا بھی مرکز رہتی ہیں، یہ علاقہ شہر آؤگسبرگ میں واقع ہے، لیکن صوبے باویریا کی یہ دلکش بستی ایک سوشل ہاؤسنگ منصوبے سے بھی کچھ زیادہ ہے۔

ضرورت مند افراد کے لیے یہ سستی رہائش گاہوں کا منصوبہ گزشتہ پانچ سو برسوں سے جاری ہے، مجموعی طور پر سرسٹھ گھر ہیں اور ان میں تقریبا ایک سو پچاس ضرورت مندوں کے لیے ایک سو بیالیس رہائش گاہیں ہیں۔

اس منصوبے کی بنیاد تئیس اگست پندرہ سو اکیس کو آؤگسبرگ کے تاجر یاکوب فوگر نے رکھی تھی۔

جوشخس ان سستی رہائش گاہوں میں رہنا چاہتا ہے، اسے کچھ شرائط پر پورا اترنا ہوتا ہے، اُس وقت غرباء کے لیے تعمیر کیے گئے ان گھروں میں ان مزدوروں اور کاریگروں کو رکھا جاتا تھا، جن کی زندگی کا انحصار ان کی یومیہ آمدنی پر ہوتا تھا۔

یہ رہائش گاہیں ایسے لوگوں کے لیے تھیں، جو باعزت زندگی گزارنے کے خواہش مند تھے اور کام کاج کی تلاش میں رہتے تھے۔

یاکوب فوگر کے مطابق بھیک مانگنے والے افراد کے لیے یہاں کوئی گنجائش نہیں تھی کیوں کہ ان کے لیے چرچ اور شہری انتظامیہ کام کر رہی تھی۔ علاوہ ازیں یہ شرائط بھی رکھی گئی تھیں کہ رہائشیوں کا تعلق آؤگسبرگ سے ہی ہونا چاہیے، ان کا عقیدہ کیتھولک ہو اور انہیں بانی تاجر کی روح کے لیے دن میں تین مرتبہ دعا کرنا ہوگی۔

یہاں کے رہائشیوں کو سالانہ کرایہ بھی ادا کرنا پڑتا تھا، جو اس وقت کے مطابق ایک کاریگر یا مزدور کی ایک ہفتے کی کمائی کے برابر ہوتا تھا۔ تاہم گزشتہ پانچ سو برسوں سے کرایے میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اُس وقت کے حساب سے یہ اب سالانہ اٹھاسی سینٹ بنتے ہیں۔ ابھی بھی قانون یہی ہے کہ یہاں کے رہائشیوں کو دن میں تین مرتبہ اس منصوبے کے بانی کے لیے دعا کرنا ہے۔ تاہم کوئی ایسا کرتا ہے یا نہیں، اس حوالے سے کبھی کسی سے پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں