لاہور : غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی ایک اور فہرست سامنے آگئی ، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے مضافات میں غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے تیزی سے پھیلاؤ نے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے متعدد نجی اسکیموں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔
رپورٹ کے مطابق نشتر ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، عزیز بھٹی ٹاؤن، رائے ونڈ روڈ، بیدیاں روڈ اور بی آر بی کینال کے اطراف میں درجنوں سوسائٹیاں بغیر کسی قانونی منظوری کے کام کر رہی ہیں۔
اہم غیر قانونی اسکیموں کی فہرست
نشتر ٹاؤن ایریا میں وائٹل پریمیم، عالم ریزیڈنسی، بدر کالونی، فاطمہ ہاؤسز، بلال ٹاؤن، گرین کیپ ہاؤسنگ سوسائٹی، المدینہ ٹاؤن، آئیڈیل گارڈن، کوہ نور، میاں قاسم اسٹیٹ، پرائم ہومز، جوڈیشل ایونیو شامل ہیں۔
اقبال ٹاؤن ایریا میں حافظ ٹاؤن، آمنہ پارک، عبداللہ ٹاؤن، رانا ٹاؤن، پاک ٹاؤن، جمیل پارک اور ڈاکٹرز سوسائٹی۔
عزیز بھٹی ٹاؤن میں ارشد گارڈن، آئی بی ایل ہومز، پیراگون سٹی (بعض حصے)، میاں عزیز گارڈن اور ہجویری سوسائٹی جبکہ دیگر علاقے بن عالم سٹی، ایگزیکٹو لاجز، ڈیفنس ویو فارمز، کنال گرین فارمز اور مائی فا ریزیڈنسی شامل ہیں۔
ماہرینِ تعمیرات اور شہری ترقی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان غیر منظور شدہ اسکیموں میں پلاٹ خریدنے والوں کو زمین کی ملکیت کا قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، یوٹیلیٹی کنکشنز کے حصول میں شدید مشکلات یا انکار، سڑکوں، سیوریج اور پانی کے منظور شدہ نقشوں کی عدم موجودگی جسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایل ڈی اے کی جانب سے کسی بھی وقت مسمار کرنے یا پراجیکٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کا خطرہ ہوتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈویلپرز زمین کے استعمال کی تبدیلی اور لے آؤٹ پلان کی منظوری کے بغیر ہی مارکیٹنگ اور پلاٹوں کی فروخت شروع کر دیتے ہیں۔
شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سوسائٹی میں رقم جمع کرانے سے پہلے ایل ڈی اے کے ریکارڈ سے اس کی منظوری کی حیثیت لازمی چیک کریں تاکہ عمر بھر کی جمع پونجی ضائع ہونے سے بچائی جا سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


