The news is by your side.

Advertisement

معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں

لندن: دور حاضر معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں، ان کو نیوٹن اور چارلس ڈارون کی قبر کے قریب دفنا دیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 14 مارچ کو انتقال کرنے والے اسٹیفن ہاکنگ کی آخری رسومات کیمبرج یونیورسٹی کے گریٹ سینٹ میری چرچ میں ادا کی گئیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کو ویسٹ منسٹرایبے میں نیوٹن اور چارلس ڈارون کی قبر کے قریب دفنایا گیا، تدفین کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد چرچ کے باہر موجود تھی۔

واضح رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی کے معروف ماہر طبیعات تھے۔ انہیں آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائئنسدان قرار دیا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات کے میدان میں ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ کی ایک کتاب وقت کی مختصر تاریخ ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے انقلابی حیثیت حاصل ہے، یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی نہایت عمدہ کتاب ہے جس سے ایک عام قاری اور اعلیٰ ترین محقق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، وہ ایک خطرناک بیماری سے دوچار تھے اور چلنے پھرنے سے قاصر تھے ہاتھ پاؤں ہلا نہیں سکتے تھے۔

اسٹیفن ہاکنگ دماغی طور پر صحت مند رہے اور بلند حوصلے کی وجہ سے اپنا کام جاری کھے ہوئے تھے، وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے، ان کی بیماری ان کو تحقیقی عمل سے روک نہ سکی۔

واضح رہے کہ برطانوی سائنسدان نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ انسان جس مخلوق کی کھوج میں ہے، وہ اس کے لیے تباہی لائے گی، ایسی کوئی مخلوق زمین پر آئی تو وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد ریڈ انڈینز کے ساتھ ہوا تھا۔

پروفیسر ہاکنگ نے کہا تھا کہ اجنبی مخلوق سے رابطوں کی کوشش کے بجائے ان سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے، سائنس دانوں نے خلا میں ایسے مشن بھیجے ہیں جن پر انسانوں کی تصویریں اور زمین تک پہنچنے کے نقشے تھے، ممکنہ خلائی مخلوق سے رابطے کے لیے ویڈیو بیمز بھی بھیجی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ہالی ووڈ اداکار ایڈی ریڈمائن نے 2014 میں بنائی جانے والی فلم ‘دی تھیوری آف ایوری تھنگ‘ پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ کا کردار ادا کیا تھا جبکہ ان کی اہلیہ کا کردار اداکارہ فلیسٹی جونز نے نبھایا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں