The news is by your side.

Advertisement

نور مقدم قتل کیس کی تحقیقات میں مزید پیشرفت

اسلام آباد: سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم قتل کیس کی تحقیقات میں مزید پیشرفت سامنے آئی ہے، تھراپی کلینک کے مالک ڈاکٹر طاہر سمیت 6 ملازمین گرفتار کرلیے گئے۔

ذرایع کے مطابق اسلام آباد سے تھراپی کلینک کے مالک ڈاکٹر طاہر سمیت 6 ملازمین گرفتار ہوئے ہیں، تمام افراد کو نور قتل کیس میں شواہد چھپانے پر گرفتار کیا گیا، ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

اس ضمن میں ذرایع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزمان نے ظاہر جعفر کے والدین سے مل کر شواہد چھپانے کی کوشش کی۔

گزشتہ روز ملزم کے مالی جان محمد کا بیان سامنے آیا جس میں مالی نے بھی نورمقدم کے چھلانگ لگانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قتل سے پہلے نور مقدم کی چیخیں سنائی دے رہی تھی۔

نور مقدم کیس میں اہم پیشرفت، فوٹوگرامیٹری رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

دوسری جانب اسلام آباد پولیس کو فوٹوگرامیٹری رپورٹ موصول ہوئی، رپورٹ میں سی سی ٹی وی کے اصل ہونےکی تصدیق ہوئی ہے، فوٹوگرامیٹری رپورٹ میں ملزم ظاہرجعفراور مقتولہ کےبھی اصل ہونےکی تصدیق کردی گئیں ہیں۔

خیال رہے کہ عید الاضحیٰ کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون سے ایک سربریدہ لاش ملی تھی، جسے سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کے نام سے شناخت کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا بعد ازاں اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں