The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا میں لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

سری لنکا میں جاری بدترین معاشی بحران نے تعلیم کو بھی لپیٹ میں لے لیا، امتحانات ملتوی ہونے سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔

سری لنکا اس وقت اپنی تاریخ کےبدترین معاشی بحران سے دوچار ہے پہلے خبریں آئی تھیں کہ ملک میں پٹرول کے ذخائر ختم ہوگئے حکومت کے بعد پٹرول درآمد کرنے کیلیے ڈالر ختم ہوگئے، لوگ گھریلو ایندھن کی تلاش میں سرگرداں ہیں، پھر معلوم ہوا کہ وہاں اشیائے خورونوش سمیت دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا بھی عوامی دسترس سے دور ہوچکی ہیں اور اب خبر آئی ہے کہ زرمبادلہ کی کمی کے باعث روشنائی اور کاغذ نایاب ہوگیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا میں زرمبادلہ میں کمی کے باعث ملک میں روشنائی اور کاغذ نایاب ہوگیا ہے جس کے باعث امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ امتحانات ملتوی ہونے سے 45 لاکھ طلبہ وطالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

خبر کے مطابق سری لنکا حکومت نے موجودہ بحران سے نکلنے کیلیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت بیل آؤٹ پیکیج لیا جائیگا۔ آئی ایم ایف نے بھی اس حوالے سے لنکن حکومت سے رابطوں کی تصدیق کردی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق سری لنکا نے چین سے بھی مالی مدد کی درخواست کی ہے لیکن چین نے اس حوالے سے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا پر غیرملکی قرضوں کا انبار ہے اور اس کے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ارب تین کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: سری لنکا بدترین بحران کا شکار، ڈالر ختم ہوگئے

معاشی ابتری کے باعث دکانوں اور مارکیٹوں میں لوگوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، دودھ اور شکر تک کی شدید قلت ہوچکی ہے جب کہ ایندھن نہ ہونے کے باعث ملک بھر میں بجلی کا طویل بلیک آؤٹ معمول بن چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں