پیرس (09 مارچ 2026): ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی 7 نے تیل کے اضافی ذخائر جاری کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا کے وزرائے خزانہ کا آج اس سلسلے میں مشترکہ اجلاس ہوگا، امریکا سمیت تین جی سیون ملکوں نے اضافی تیل ذخائر ریلیز کرنے کی حمایت کی ہے۔
توانائی بحران کے پیش نظر تیل کی قیمتیں قابو میں رکھنے کے لیے اضافی ذخائر استعمال کرنے کی تجویز دی گئی۔ فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ جی سیون ممالک تیل مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ایک فرانسیسی حکومتی ذریعے کے مطابق گروپ آف سیون کے وزرائے خزانہ پیر کے روز ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے کے ممکنہ اقدام پر بات چیت کریں گے۔ یہ غور و خوض مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے ردِعمل کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
ایشیا کی حکومتیں اپنی معیشت اور صارفین کو بچانے کے لیے تیزی سے اقدامات کرنے لگیں
خیال رہے کہ آج پیر کے روز تیل کی قیمتیں 25 فی صد سے زیادہ بڑھ کر وسط 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے کی وجہ کچھ بڑے پیداواری ممالک کی جانب سے سپلائی میں کمی اور ایران کے ساتھ پھیلتی ہوئی امریکا-اسرائیل جنگ کے باعث بحری ترسیل میں طویل رکاوٹوں کے خدشات ہیں، جس نے مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی، جو جی سیون کے مشترکہ اجلاس میں شامل ہوگی، نے آج پیر کے روز اپنے نیوز لیٹر میں کہا ہے کہ وہ توانائی کی سلامتی کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


