جمعرات, مئی 14, 2026
اشتہار

مارکیز:‌ عالمی شہرت یافتہ ناول نگار

اشتہار

حیرت انگیز

مارکیز نے ”طلسمی حقیقت نگاری“ کی اصطلاح سے اتفاق نہ کیا، جو انہی کے لیے وضع کی گئی تھی۔ وہ اسے صرف حقیقت نگاری خیال کرتے تھے۔ عالمی سطح پر بطور ناول نگار شہرت اور اس کے باوجود کہ مشاہیرِ ادب اور بڑے بڑے سیاست داں ان سے ملاقات کی خواہش رکھتے تھے مارکیز کے پاؤں زمین سے نہیں اکھڑے اور ایک دن نوبیل انعام یافتہ مارکیز نے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے موند لیں

عصرِ حاضر کے سب سے بڑے ناول نگار کا درجہ رکھنے والے مارکیز کے شہرۂ آفاق ناولوں میں ’تنہائی کے سو سال‘ اور ’وبا کے دنوں میں محبت‘ کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے۔ گیبریئل گارشیا مارکیز کو اپنے عہد کا سب سے بڑا اور قارئین کا محبوب فکشن نگار بھی کہا جاتا ہے۔ 2014 میں مارکیز آج ہی کے دن چل بسے تھے۔ ان کی عمر 87 برس تھی۔ مارکیز کو ان کے احباب اور مداح گابو کے نام سے بھی پکارتے تھے۔ 1982ء میں مارکیز کو ادب کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق مارکیز کے قلم کی انفرادیت یہ تھی کہ ان کی تخلیقات کا قاری ماضی، حال اور مستقبل کو ان تحریروں میں ایک ساتھ دیکھتا تھا۔ وہ واقعات کو طلمساتی انداز میں یوں گوندھتے تھے کہ قاری خود کو ان میں‌ گرفتار پاتا۔ مارکیز کے تخلیقی کام کی ایک خوبی یہ تھی وہ کسی مغربی ادیب یا مغربی روایت کے نقال نہیں بنے بلکہ اپنے حالات، مقامی کرداروں اور محسوسات، تجربات ہی کو اپنی تخلیقات میں پیش کیا۔ انھوں نے محبّت جیسے قدیم اور لافانی جذبے، خاندان اور آمریت کی دل موہ لینے والے واقعات کو کہانی میں پیش کیا۔ ان کے انوکھے موضوعات، کردار نگاری کا مخصوص انداز اور واقعات کی طلسماتی بنت نے انھیں ہم عصروں کے مقابلے میں ازحد مقبول بنا دیا۔ کارسیا مارکیز کی تقریباً تمام تحریریں اردو سمیت دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں۔

مارکیز کے مشہور ناولوں کے نام ہیں:
(1967) One Hundred Year of Solitude
(1975) The Autum of the Patriarch
(1985) Love in the Time of Cholera
(2002) Living to Tell the Tale

لاطینی امریکا کے اس مشہور فکشن رائٹر کی کیوبا کے معروف لیڈر فیدل کاسترو کے قریبی دوستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1927ء میں مارکیز نے کولمبیا کے ایک قصبے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد کیمسٹ تھے۔ وہ نظمیں بھی لکھتے تھے اور پڑھے لکھے تھے۔ انہی سے متاثر ہوکر مارکیز نے بھی کتاب اور قلم سے ناتا جوڑا تھا۔ تاہم مارکیز کا بچپن اپنے نانا نانی کے ساتھ گزرا تھا۔ وہ گھر میں ان بزرگوں سے مختلف قصّے اور پراسرار کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے۔ مارکیز دراصل ہسپانوی آباد کاروں، مقامی آبادی اور سیاہ فاموں کی غلامی کے ورثے میں پروان چڑھے تھے اور انہی سب کو ان کے بزرگ واقعات کی شکل میں بیان کرتے تھے۔ مارکیز کی ماں لوئیسا ایک جانے مانے اور اعلیٰ خاندان کی لڑکی تھیں مگر اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف ایک معمولی آدمی سے شادی کی تھی۔ مارکیز کی پیدائش پر لوئیسا اپنے ماں باپ کو خوش اور رضامند کرنے کے لیے اپنے میکے چلی آئی تھیں اور پھر بیٹے کو انہی کے گھر چھوڑ دیا تھا۔ اس طرح تنہائی کا تجربہ مارکیز کو اپنی زندگی کے ان بالکل ابتدائی دنوں میں ہی ہو گیا تھا۔ اُس کا بچپن خوش حال تھا۔ مارکیز کے نانا اور نانی کے پاس قصے کہانیوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ جس ماحول میں پلا بڑھا اُس میں خاندان کے بڑے بوڑھے اپنے شہر اور قصبے اور خاندان کی تاریخ کے سیکڑوں قصے سناتے رہتے تھے۔ مارکیز کے نانا اپنے سنسنی خیز زمانے کے واقعات اکثر سناتے رہتے تھے۔ دوسری طرف اس کی نانی اور تین خالائیں تھیں جو روحانی واقعات اور کرشموں پر یقین رکھتی تھیں اور ان کی زبانی وہ بہت کچھ سنتے ہوئے بڑا ہوا۔ نانا کی موت کے بعد وہ والدین کے گھر آ گیا جہاں تعلیم کا سلسلہ جوڑا اور بعد میں کولمبیا کے دارالحکومت کی یونیورسٹی میں قانون پڑھنے کے لیے داخلہ لے لیا۔ اس دوران کولمبیا میں اس نے سیاسی تبدیلیاں، احتجاج اور تشدد دیکھا اور پڑھائی سے دل اچاٹ ہوگیا تو لکھنے کا آغاز کر دیا۔ پھر اخباروں کے لیے کام کرنے لگا اور ہمہ وقت صحافی کا پیشہ اختیار کر لیا۔ اسی دور میں آرٹ و ادب سے متعلق بہت سی شخصیات سے اس کے دوستانہ تعلقات بن گئے۔ اس کے لکھنے کا سفر جاری تھا اور شہرت بھی اس کے تعاقب میں تھی۔ اس کا پہلا ناول ۱۹۵۵ء میں شائع ہوا مگر بطور ایک ناول نگار اس کی شناخت نہیں قائم ہوسکی۔ تاہم وہ بطور صحافی اور کالم نویس مشہور ہوچکا تھا۔ وہ بطور نامہ نگار یورپ بھی گیا اور پھر مارکیز قلاش اور بے روزگار ہو گیا۔ اس نے پیرس میں تنگ دستی کے دن گزارے مگر اسی دور میں فلم سازی کا ایک کورس بھی مکمل کر لیا۔ اس کا ایک ناولٹ کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا ۱۹۶۱ء میں شایع ہوا۔ بعد میں اس کا شاہکار ناول تنہائی کے سو سال شایع ہوا اور وہ ہفت آسمان شہرت کا حامل ٹھیرا۔ اب کام یابی، دولت اور شہرت سب مارکیز کے قدم چوم رہی تھی۔ اس نے کئی فلموں کے اسکرپٹ لکھے، مختلف ممالک کے شہروں کا دورہ کیا اور تاثراتی مضامین، رپورٹیں اور کالم لکھے اور یہ شہرت اور مقام آج بھی برقرار ہے۔ ۱۹۸۵ء میں مارکیز کا ناول وبا کے دنوں میں محبت“ منظر عام پر آیا جس میں مارکیز نے ایک نئے موضوع اور ایک نئے اسلوب کو اپنا کر اپنے قارئین کو چونکا دیا۔

ناول نگار کے طور پر مارکیز کی پہچان کا سفر تو 1961 میں شروع ہوا تھا مگر عالمی شہرت یافتہ مارکیز کی پہلی ملازمت ایک اخبار میں تھی جس نے 1947ء میں ان کی پہلی مختصر کہانی شائع کی تھی۔ اس زمانہ میں ان کے قلم سے نکلا ہوا ایک آرٹیکل فوجی حکام کا پسند نہیں آیا تھا اور اسی لیے مارکیز کو اخبار نے یورپ میں نامہ نگار بنا کر بھیج دیا تھا۔ اس دور میں ان کا وقت جنیوا، روم اور پیرس میں گزرا اور وہ اپنا تخلیقی کام انجام دیتے رہے۔ مارکیز نے اپنے ملک میں جاری جنگ و جدل، بدامنی اور بے چینی کے ساتھ محبّت کے جذبے اور دوسرے واقعات کو اپنی کہانیوں میں سمویا۔ ان کی کہانیوں کے بیشتر کردار خاندان اور شہر کے وہ لوگ تھے جن کی زندگیوں کو مارکیز نے قریب سے دیکھا اور ان کا مشاہدہ کیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں