The news is by your side.

Advertisement

جگر کے 200 ٹرانسپلانٹ بالکل مفت، سندھ کے سرکاری اسپتال کا منفرد ریکارڈ

سندھ کے ضلع خیرپور کے علاقے گمبٹ میں واقع پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز گمبٹ نے جگر کی 200 مفت پیوند کاریاں کرنے کا منفرد ریکارڈ حاصل کرلیا۔

شعبہ جگر پیوند کاری کے سربراہ ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر اور اُن کی ٹیم گزشتہ کئی برس سے اسپتال میں جگر کی پیوند کاری کے  کامیاب آپریشن کررہی ہے، جن میں سے اب تک 200 غریب اور مستحق افراد کا بالکل مفت علاج کیا گیا، مریضوں کی 15 ، 15 گھنٹے طویل اور پیچیدہ سرجریز کی گئیں ہیں۔

اسپتال کی جانب سے مریضوں کو تمام سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں، پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سندھ حکومت کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر نے بتایا کہ گزشتہ برس تک ہم نے 50 مریضوں کی پیوندکاریاں کی تھیں، جس کے بعد ہم نے اس پروگرام کو بڑھایا اور ایک سال میں ڈیڑھ سو مزید آپریشن کیے، جن مریضوں کے آپریشن کیے گئے اُن میں سے 114 مریض سندھ ، 49 پنجاب سے، 32 بلوچستان سمیت آزاد جموں کشمیر، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان سے تھے۔

مزید پڑھیں: جگر کی پیوند کاری سندھ کے اسپتال میں ممکن، بالکل مفت ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ

ڈاکٹر عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ ’ہم جگر کی پیوندکاری کی سروس پورے پاکستان کو فراہم کررہے ہیں اور اس سلسلے کو انشاء اللہ اسی طرح جاری و ساری رکھیں گے‘۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ ’علاج و معالجہ بہت مہنگا پڑتا ہے، ایک ٹرانسپلانٹ میں تقریباً تیس سے چالیس لاکھ روپے کے اخراجات آتے ہیں، جتنے بھی آپریشن ہوئے یا مریضوں کو سہولیات فراہم کی گئیں اُس کے تمام اخراجات سندھ حکومت نے برداشت کیے ہیں‘۔

ڈاکٹر عبدالوہاب نے بتایا کہ ’اسپتال میں صرف ٹرانسپلانٹ ہی نہیں بلکہ جگر سے متعلقہ دیگر اور بیماریوں کا علاج جیسے جگر کا کینسر، ہیپاٹائٹس، جگر کی نالی کا بند ہونا سمیت دیگر امراض کے علاج کی سہولت بھی موجود ہے‘۔

ٹرانسپلانٹ کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟

گمبٹ اسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالرحمان نے بتایا تھا کہ جگر کی پیوند کاری کی ضرورت اُس وقت پیش آتی ہے جب جگر مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے، اگر بیس فیصد بھی کام کررہا ہوتا ہے کہ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں