لندن میں گینگ جرائم میں کمی، پرتشدد واقعات میں اضافہ crime in london
The news is by your side.

Advertisement

لندن میں گینگ جرائم میں کمی، پرتشدد واقعات میں اضافہ

لندن: 2011 میں لندن میں ہونے والے فسادات کے بعد سے شہر میں گینگ جرائم کی شرح میں کمی ہوئی ہے جبکہ پرتشدد واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

نئے اعدادوشمار کے مطابق لندن میں جنوری سے پرتشدد واقعات میں 89 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، میٹروپولیٹن پولیس سے حاصل کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2010 کے بعد سے پرتشدد جرائم میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس مدت کے دوران گینگ جرائم میں کم و بیش 50 فیصد کمی ہوگئی ہے۔

بعض ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ جرائم پیشہ گروپوں کا خاتمہ ہوگیا ہے، میٹروپولیٹن پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق 2011 میں لندن میں ہونے والے فسادات کے بعد جو ڈیٹا بیس تیار کیا گیا تھا اس میں متعلقہ شعبوں کے انتہائی باخبر 3 ہزار 800 افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

تمام اسران انتہائی اعلیٰ تربیت یافتہ اور تجربہ کار ہیں گینگ سے تعلق رکھنے والوں اور گینگ کا رکن ہونے کی علامات کو بخوبی سمجھتے اور پہچانتے ہیں جس کی بنیاد پر بہت زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت کرنے والے گینگ ممبران کی نشاندہی کرلی جاتی ہے اور انٹیلی جنس کے ذریعے تفصیلات جمع کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہیں۔

پولیس آپریشن کے بعد گینگ کے ارکان کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد وارداتوں میں کمی آگئی ہے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے قائم کردہ میٹرکس میں گینگ کے ارکان کی نشاندہی اور ان کا پتہ چلانے کے لیے انٹیلی جنس کی مختلف طرح کی معلومات پر تشدد معلومات کے ریکارڈ سوشل میڈیا پر انٹریز اور مختلف اداروں بشمول لوکل کونسلوں سے حاصل ہونے والی معلومات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ میٹرکس کے نظام میں خامیاں موجود ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے بڑی تعداد میں نسلی اقلیت کے لوگوں کو نشانہ بنایا، میٹروپولیٹن پولیس کے ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ لیرو نے لوگان نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹرکس نقاص نظام کی وجہ سے نوجوانوں کو جرائم پیشہ بنا رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں