جنگ زدہ کابل میں پھولوں سے نئی امید روشن -
The news is by your side.

Advertisement

جنگ زدہ کابل میں پھولوں سے نئی امید روشن

کسی جنگ زدہ شہر میں لوگوں کی سب سے پہلی ترجیح کیا ہوسکتی ہے؟ اپنی جان بچانا، کسی حملے کی صورت میں محفوظ ٹھکانے پر پہنچنا اور اس کے بعد جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے خوراک کی دستیابی، لیکن کابل کا حمید اللہ ایک قدم آگے بڑھ کر جنگ زدہ شہر میں اپنا باغ سجا کر امن اور نئی زندگی کی نوید دے رہا ہے۔

افغانستان میں جنگ اور حملوں کے وقت 18 سالہ حمید اللہ اپنے خاندان کے ساتھ عراق چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ وہاں سے واپس آیا تو ٹوٹے پھوٹے، مٹی سے اٹے گھروں کو دیکھ کر اسے خیال آیا کہ اس جنگ زدہ شہر میں کوئی گوشہ عافیت ہونا چاہیئے۔

تب اسے گھر میں باغ بنانے کا خیال آیا۔

حمید اللہ کا کہنا ہے جنگ کے دوران پھولوں سے بھرا ہوا باغ ایک جنت محسوس ہوتا ہے۔

وہ بتاتا ہے کہ طالبان کے ایک حملے کے دوران اس کا نہایت قریبی دوست مارا گیا۔ ’اس کی موت مجھے رات کو سونے نہیں دیتی تھی، میں بہت غمزدہ تھا‘۔

اس غم کو بہلانے کے لیے اس نے اپنے باغ میں مزید خوش رنگ پودے اگانے شروع کردیے۔

وہ بتاتا ہے کہ جب یہ پودے بڑے ہو کر لہلہانے لگے تو مجھے لگا کہ مجھے پھر سے ایک دوست مل گیا ہے۔

نوجوان حمید کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں فارمیسی کی تعلیم بھی حاصل کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’روز صبح جب میں گھر سے نکل کر جاتا ہوں تو میں خوفزدہ ہوتا ہوں کہ کہیں یہ میری زندگی کا آخری دن نہ ہو‘۔

اس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس کا ارادہ اپنے شعبے میں جانے کا ہے تاہم باغبانی اس کا جنون بن چکا ہے ارو وہ اسے ہمیشہ جاری رکھے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں