کراچی (21 ستمبر 2025): شہر قائد کے علاقے گارڈن، عثمان آباد میں ایک گٹر کی صفائی کے دوران 3 خاکروب افسوس ناک طور پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے عثمان آباد میں گٹر کی صفائی کے دوران مین ہول میں گر کر تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن کی لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈن، عثمان آباد میں گٹر کی صفائی کے دوران 4 افراد گر گئے تھے، جن میں سے علاقہ مکینوں نے ایک شخص کو بے ہوشی کی حالت میں نکال لیا تھا، تاہم باقیوں کو بروقت نہیں نکالا جا سکا۔
سکھر میں اونٹنی کے بچے کی ٹانگ کاٹ دی گئی، جبڑا توڑ دیا گیا
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کے بعد مین ہول میں ڈوبنے والے باقی 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، تینوں خاکروب ہیں جو مین ہول کی صفائی کر رہے تھے، پولیس کے مطابق ان کی شناخت 22 سالہ وشال، 19سالہ شاہر، اور 42 سالہ جورج کے نام سے ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں مین ہول کی صفائی کے دوران صفائی ورکرز کی اموات معمول بن گئی ہیں، صفائی کے کام کے دوران سینیٹری ورکرز کے حادثات اور اموات کے بارے میں درست اعداد و شمار موجود نہیں۔ اگر سماجی تنظیموں کے دعوؤں اور میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کو دیکھا جائے تو ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیورمین کو ضروری سامان کی مکمل کٹ (پی پی ای) دی جائے جس میں ہیلمٹ، سیفٹی بیلٹ، آکسیجن سلنڈر، بوٹ، ماسک اور دستانے شامل ہوں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


