لاہور کو اگر درختوں، پھولوں اور باغوں کا شہر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب کوئی شخص پورا شہر گھومنا چاہے تو اسے ایک کے بعد دوسرے باغ سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔
مغل بادشاہوں کا یہ قاعدہ تھا کہ وہ جہاں بھی عمارتیں بناتے خواہ وہ بارہ دریاں ہوں یا مقبرے، ان کے ارد گرد باغ ضرور لگاتے تھے۔ یہ باغ اب آثارِ قدیمہ کی شکل میں موجود ہیں یا پھر ملیا میٹ ہوچکے ہیں تاہم ان کی باقیات آج بھی ہیں۔
کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ شہر اب تک باغوں کا شہر کہلاتا ہے، ان ہی میں ایک ’ڈیوڑھی باغ نواں کوٹ بھی ہے جسے چھوٹی چوبرجی بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آج بھی اس کے کھنڈرات کو دیکھ کر اس کی خوبصورتی اور اہمیت کا بخوبی اندازاہ لگایا جاسکتا ہے۔
مغلیہ عہد سلطنت کا باغ نواں کوٹ (چھوٹی چوبرجی) کا عالی شان دروازہ نواں کوٹ نزد موڑ سمن آباد لاہور میں واقع ہے۔ ویسے تو یہ باغ تو مغل دور کا ہے لیکن مغلیہ حکومت کے زوال کے دوران یہ علاقہ ویران ہوگیا تھا۔
کچھ مؤرخین اس باغ کو زیب النساء سے بھی منسوب کرتے ہیں، اس کی خاصیت یہ ہے کہ اسے ایک خاتون کی جانب سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
شہزادی زیب النسا شہنشاہ ہندوستان اورنگزیب عالمگیر اور دلرس بیگم کی صاحبزادی تھیں اور فارسی زبان کی شاعرہ تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ چوبرجی کی تکمیل پر زیب النساء نے اس کو اپنی کنیز خاص میا بائی کو بحش دیا تھا اور بعد ازاں نواں کوٹ میں ایک اور باغ کی بنیاد ڈالی اور ساتھ ہی اپنا مقبرہ بھی تعمیر کروایا لیکن تحقیق سے ثابت ہے کہ زیب النساء کا لاہور سے کوئی خاص تعلق نہیں نیز وہ دہلی میں مدفون ہیں۔
اس باغ کے حوالے سے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ صرف شہزادیوں کے لیے مخصوص تھا، اس کا ایک حصہ صرف خواتین کیلیے بنایا گیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


