اسلام آباد (13 جنوری 2026): گیس کمپنیوں کی جانب سے کارکردگی بہتر کرنے کی بجائے مستقل اثاثوں پر منافع کمانے کا انکشاف ہوا ہے۔
سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ گیس کمپنیاں اثاثوں پر منافع کما کر صارفین پر بوجھ ڈالتی رہیں، اور سوئی گیس کمپنیوں نے 7 سالوں میں 305 ارب روپے منافع کمایا۔
گیس کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے 26 فی صد تک منافع حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے، دستاویز کے مطابق سوئی گیس کمپنیوں نے یہ منافع کارکردگی کی بجائے اپنے مستقل اثاثوں پر کمایا۔
سوئی ناردرن نے 196 ارب روپے منافع کمایا، اور یہ سارے کا سارا منافع کارکردگی کی بجائے فکسڈ اثاثہ جات پر کمایا گیا، گزشتہ سات برسوں میں سوئی ناردرن نے 4 مرتبہ 17 فی صد منافع لیا، ایک مرتبہ 26 فی صد اور دو مرتبہ 21 فی صد منافع لیا۔
کراچی میں گیس کی قلت پر سوئی سدرن کا اہم بیان
دستاویز کے مطابق سوئی سدرن نے گزشتہ سات سالوں میں 109 ارب روپے منافع کمایا، ان سات برسوں میں 17 فی صد، 23 فی صد اور 26 فی صد کی شرح سے منافع لیا گیا۔
اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے منافع کو کارکردگی سے منسلک کرنے کرنے کے لیے ورکنگ شروع کر دی گئی ہے، گیس کمپنیوں کے منافع کی شرح کے تعین کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، منافع کے طریقہ کار پر نظر ثانی کے لیے نجی کمپنی کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔
اوگرا حکام کے مطابق منافع سے متعلق لاہور، اسلام آباد اور کراچی اور پشاور میں عوامی سماعت ہو چکی ہے، کل کوئٹہ میں سماعت کی جائے گی۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


