کوئٹہ میں گیس کا پریشر بڑھانے کے لیے کمپریسر استعمال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس ایس جی سی نمائندوں نے شرکت کی جس میں کمپریسر کے استعمال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کمپریسر بیچنے، لگانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
گیس کھینچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کمپریسر کیوں خطرناک ہیں؟
پاکستان میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں گیس کے دباؤ میں کمی کی شکایات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے میں سب سے زیادہ گھریلو صارفین متاثر ہوتے ہیں۔
گیس دباؤ میں کمی کے باعث نہ صرف یہ کہ وقت پر ناشتہ اور کھانا نہیں ملتا بلکہ نہانے کے لیے گرم پانی دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی گھر گرم کرنے کے لیے گیس ہیٹر چلتا ہے۔
اس صورت حال سے بچنے کے لیے بہت سے صارفین پائپ لائن سے گیس کا زیادہ پریشر حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر کمپریسر لگا لیتے ہیں جو دوسرے گھروں کے حصے کی گیس بھی کھینچ کر ان کے گھر منتقل کر دیتے ہیں۔
گیس کمپریسر ایک الیکٹریکل ڈیوائس ہے جس کا کام پائپ میں موجود گیس کو اپنی طرف کھینچ کر چولہے، گیزر یا ہیٹر کے برنر تک پہنچانا ہوتا ہے۔
کمپریسر سے گھروں میں گیس بھر جاتی ہے اور نتیجتاً سوتے میں دم گھٹنے، آگ لگنے اور دھماکوں جیسے واقعات ہوتے ہیں۔
اگر آپ کمپریسر کا استعمال کریں گے تو یہ گیس کو کھینچے گا جس سے بل زیادہ آئے گا جسے ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گیس انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بھی ہے جب کہ اس کے باعث ہونے والے حادثات مالی اور جائیداد کے نقصانات کا باعث بھی بنتے ہیں۔


