اکیسویں صدی کی عالمی سیاست ایک بڑے تغیر سے گزر رہی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا طویل عرصے تک امریکی بالادستی یا ’’یک قطبی نظام‘‘ کے زیرِ اثر رہی، مگر اب عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین معاشی، سفارتی اور عسکری میدان میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے، جب کہ روس خود کو مغربی دباؤ کے مقابل ایک مزاحم قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جِن پنگ سے ملاقات اور اس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا چین جا کر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان ملاقاتوں کو سفارتی آداب سے کہیں بڑھ کر ایک ایسے عالمی منظرنامے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں، اور کثیر قطبی دنیا کا تصور عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
چین نئی عالمی قوت کا مرکز
گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے غیر معمولی معاشی ترقی کے ذریعے خود کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں تبدیل کیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، برقی گاڑیاں اور نایاب معدنیات پر کنٹرول نے چین کو عالمی سیاست اور معیشت میں ایک مرکزی کردار دے دیا ہے۔
چین ایک معاشی طاقت ہی نہیں، ایک ایسا ملک بھی بن چکا ہے جو عالمی نظام کی تشکیلِ نو میں اپنا کردار چاہتا ہے۔ شی جن پنگ بارہا ’’مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری‘‘ اور ’’برابر کی عالمی شراکت‘‘ کی بات کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی حالیہ ملاقات دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تعلقات میں نئی جہت کی علامت بنی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تجارتی کشیدگی کم کرنے، ٹیرف میں نرمی، زرعی تجارت بڑھانے اور نایاب معدنیات کے معاملات پر بات چیت کی۔
یہ ملاقات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ شدید جغرافیائی سیاسی رقابت کے باوجود امریکا اور چین ایک دوسرے سے مکمل علیحدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمی سپلائی چین، ٹیکنالوجی، توانائی اور مالیاتی نظام میں دونوں ممالک کی گہری وابستگی دنیا کو مجبور کرتی ہے کہ وہ تصادم کی بہ جائے کسی نہ کسی سطح پر تعاون برقرار رکھیں۔
لیکن اس ملاقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ امریکا مجبور ہے کہ چین کو صرف ایک تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک حریف کے طور پر بھی دیکھے۔ تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور نایاب معدنیات کے معاملات دونوں طاقتوں کے درمیان مستقل کشیدگی کا باعث ہیں۔
روس اور چین کی مغربی نظام کا متبادل بننے کی کوشش
امریکا اور یورپ کی پابندیوں کے بعد روس نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی چین میں شی جن پنگ سے ملاقات اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ روس اور چین دونوں کثیر قطبی دنیا کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کو صرف مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکا، کے زیرِ اثر نہیں رہنا چاہیے بلکہ مختلف خطوں اور طاقتوں کو برابر کا کردار ملنا چاہیے۔ پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کو ’’نئے عالمی نظام کے ستون‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اب حقیقتاً کثیر قطبی ہو چکی ہے۔
چین اور روس کے درمیان توانائی، دفاع، کرنسی اور سفارتی تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک ڈالر کی بہ جائے مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے، مغربی مالیاتی اداروں کے متبادل نظام قائم کرنے اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کثیر قطبی دنیا نظریہ یا نئی حقیقت؟
کثیر قطبی دنیا دراصل اس تصور کا نام ہے جس میں عالمی طاقت ایک ہی ملک کے ہاتھ میں مرتکز نہ ہو بلکہ کئی ممالک مختلف شعبوں میں طاقت کا توازن قائم کریں۔ چین اور روس اس تصور کو زیادہ منصفانہ عالمی نظام قرار دیتے ہیں، جب کہ مغربی ناقدین کے مطابق یہ امریکی اثر و رسوخ کو کم زور کرنے کی حکمتِ عملی ہے۔
تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ دنیا پہلے ہی بڑی حد تک کثیر قطبی بنتی جا رہی ہے۔ چین معاشی طاقت ہے، امریکا عسکری اور مالیاتی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے، روس توانائی اور عسکری اثر رکھتا ہے، جب کہ بھارت، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر علاقائی قوتیں بھی عالمی فیصلوں میں زیادہ خود مختار کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان بدلتی صف بندیوں کے دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی معیشت کی نئی تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ کئی کمپنیاں اپنی پیداوار مختلف ممالک میں منتقل کر رہی ہیں۔ ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کیا جا چکا ہے، روس اور چین مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھا رہے ہیں، جو مستقبل میں امریکی ڈالر کی عالمی حیثیت کو محدود کر سکتا ہے۔
عالمی اداروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے اب نئے طاقت ور ممالک کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جو عالمی فیصلوں میں زیادہ نمائندگی چاہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی بھی ایک سرد جنگ شروع ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، 5G، خلائی ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں امریکا اور چین کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ گلوبل ساؤتھ کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا کے ممالک اب صرف مغرب پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ چین اور روس کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہے ہیں۔
کیا دنیا واقعی بدل رہی ہے؟
اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکا واقعی اپنی عالمی بالادستی کھو رہا ہے؟ اس کا جواب مکمل ہاں یا نہیں میں دینا مشکل ہے۔ امریکا اب بھی دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت، مضبوط مالیاتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی رکھتا ہے، مگر چین کی تیز رفتار معاشی ترقی اور روس و چین کا اسٹریٹجک اتحاد عالمی نظام میں تبدیلی کی واضح علامت ہے۔
ٹرمپ، شی جن پنگ اور پیوٹن کی ملاقاتیں دراصل اسی نئی عالمی سیاست کی جھلک ہیں، جہاں مقابلہ، تعاون، معاشی مفادات اور نظریاتی کشمکش ایک ساتھ چل رہے ہیں۔
دنیا شاید فوری طور پر مکمل کثیر قطبی نہ بنے، لیکن یہ واضح ہے کہ یک قطبی امریکی دور اب پہلے جیسا غیر متنازع نہیں رہا۔ آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا مرکز یہی سوال ہوگا کہ نئی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کس طرح قائم ہوتا ہے اور اس کے اثرات دنیا کے ہر خطے تک کیسے پہنچتے ہیں۔
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔


