site
stats
پاکستان

گوادر میں70ارب مالیت کی سرکاری زمین میں خورد برد کا انکشاف، نیب کا نوٹس

گوادر : ایک اور کرپشن کا بڑا اسیکنڈل سامنے آگیا، گوادرمیں ستر ارب مالیت کی سرکاری زمین میں خورد برد کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد نیب بلوچستان نے جعل سازی کا نوٹس لے لیتے ہوئے بااثر افراد کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا۔

نیب ذرائع کے مطابق سی پیک کے مرکز بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں 70 ارب مالیت کی سرکاری زمین میں خورد برد کا انکشاف ہوا، با اثر افراد نے 3167 ایکڑ انتہائی قیمتی اراضی کے غیر قانونی حصول کے لئے کرپشن کا بازار گرم کرلیا جبکہ لینڈ مافیا نے متعلقہ زمین پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے حکومت کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا دیا۔

انکشاف کے بعد نیب نے اراضی کی غیر قانونی تقسیم میں بندر بانٹ کا نوٹس لیتے ہوئے با اثر افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اصولی فیصلہ کر لیا، ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے حکمت عملی تیارکرکے با اثر افراد کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لئے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا۔

گوادر اراضی اسکینڈل کی ابتدائی انکوائری سے یہ بات سامنے آئی کہ گوادر شہر کے چند مقامی افراد نے با اثر افراد کی آشیر باد سے جعل سازی اور کرپشن کے ذریعے سرکار کی تقریبا 12 ہزار ایکڑ زمین اپنے نام پر الاٹ کروائی جبکہ بعد میں حکومتی ایمان دار افسران کی کوششوں سے لینڈ مافیا سے تقریبا 9450 ایکڑ اراضی واگزار کرا لی گئی۔

تاہم بعد ازاں طاقت ور لینڈ مافیا نے ریونیو کے افسران کی ملی بھگت سے 3167 ایکڑ زمین دوبارہ اپنے نام پر کروالی، جس پر حکومت بلوچستان نے متعلقہ اراضی لینڈ مافیا کے قبضے سے چھڑانے کے لئے کیس ایس ایم بی آر کے فل بنچ کے سامنے پیش کر دیا۔

اس دوران نیب کو ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ با اثر افراد اب بھی جعل سازی اور کرپشن کے ذریعے گوادر کی انتہائی قیمتی سرکاری زمین کو ہتھیانے کی مزموم کوششوں میں مصروف ہیں، جس پر نیب نے نوٹس لیتے ہوئے اراضی اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کے لئے ابتدائی طور پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

نیب بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے جعل سازوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top