غزہ (17 جنوری 2026): غزہ کی پٹی سے متعلق معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک نئی ایگزیکٹو کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ کونسل ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے نام سے معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، یوں تو، اس کونسل میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور قومی سلامتی کے نائب مشیر رابرٹ گیبریل و دیگر شامل ہوں گے، تاہم، غزہ کی اس امن کونسل میں 2 نمایاں ارب پتی کاروباری شخصیات بھی شامل کی گئی ہیں۔
مارک روون
امریکی کاروباری شخصیت مارک روون عالمی سرمایہ کاری کے شعبے میں ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ اپولو گلوبل مینجمنٹ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ یہ کمپنی متبادل سرمایہ کاری کی دنیا کے بڑی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ فوربز کے مطابق 2025 تک اپولو کے زیرِ انتظام اثاثے تقریباً 785 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی خواہش کے پیچھے کس کاسمیٹکس کمپنی کا ہاتھ نکلا؟
مارک روون نے 2021 میں کمپنی کی قیادت سنبھالی، ان کے دور میں اپولو نے بڑے مالی سودے کیے اور عالمی سطح پر توسیع حاصل کی، فوربز 2026 کے مطابق ان کی ذاتی دولت تقریباً 8.2 ارب ڈالر ہے۔ وہ مالی اثر و رسوخ کے باوجود میڈیا میں کم دکھائی دیتے ہیں۔
یاکیر گیبے
اسرائیلی کاروباری شخصیت یاکیر گیبے بھی انتہائی با اثر سمجھے جاتے ہیں، وہ یورپ کی بڑی کمرشل رئیل اسٹیٹ کمپنی اراونڈ ٹاؤن ایس اے میں 15 فی صد حصص کے مالک ہیں۔ اس کمپنی کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 30 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
گیبے نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز اسرائیلی سیکیورٹیز اتھارٹی سے کیا، بعد میں وہ بینک لئومی سے وابستہ رہے۔ 2004 کے بعد انھوں نے یورپی رئیل اسٹیٹ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی۔ فوربز کے مطابق جنوری 2026 تک ان کی دولت 4.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا تعلق اسرائیل کے ایک با اثر سرکاری خاندان سے بتایا جاتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


