لندن (11 مئی 2026): اسرائیلی کی وحشیانہ جارحیت کے دوران غزہ میں طبی کارکنوں کی مشکلات پر بنائی گئی دستاویزی فلم نے بافٹا ایوارڈ جیت لیا ہے۔
اسرائیل کی بدترین جارحیت اور غیر انسانی رویے کی وجہ سے تباہ ہونے والے غزہ میں شعبہ صحت سے وابستہ افراد کی مشکلات پر بنائی گئی ’’ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘‘ نامی دستاویزی فلم نے کرنٹ افیئرز کے شعبے میں بافٹا ایوارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔
’’ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘‘ جس میں غزہ میں فلسطینی ہیلتھ ورکرز کو درپیش مشکلات دکھائی گئی ہیں۔ مذکورہ دستاویزی فلم کو برطانوی نشریاتی ادارے نے نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بی بی سی کے انکار کے بعد اس دستاویزی فلم کو چینل 4 سے نشر کیا گیا اور اس نے اتنی پذیرائی حاصل کی کہ اس دستاویزی فلم کو لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں بافٹا کی جانب سے بہترین ڈاکیومینٹری فلم قرار پائی۔
اس ایوارڈ کو وصول کرتے ہوئے فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بین ڈی پیئر نے بی بی سی کو یہ فلم نشر نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی کہا کہ "آخر میں، بی بی سی کے لیے صرف ایک سوال: یہ دیکھتے ہوئے کہ آپ نے ہماری فلم چھوڑ دی، کیا آپ ہمیں آج رات بعد میں بافٹا کی نمائش سے چھوڑ دیں گے؟”
اس موقع پر صحافی رمیتا ناوائی نے بھی برطانوی نشریاتی ادارے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی نے جس تحقیقات کو دکھانے سے انکار کیا، وہی بافٹا جیت گئی۔ ہم نے خاموشی اور سنسرشپ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے یہ ایوارڈ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی طبی کارکنوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے دوران 1,700 سے زیادہ فلسطینی ڈاکٹر اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن ہلاک اور 400 سے زیادہ کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں ڈاکٹروں کی مشکلات پر بنائی گئی اس دستاویزی فلم کو تو تعصب کی بنا پر بی بی سی پر نہیں دکھایا گیا، تاہم آج ایوارڈ تقریب بی بی سی ون پر نشر کی گئی اور فلم کو بافٹا ایوارڈ ملنے کے لمحات بھی دکھائے گئے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


