غزہ (06 دسمبر 2025): غزہ کی تنظیم القوات الشعبیہ نے حماس کے خلاف لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غزہ کی پٹی کے جنوب میں پاپولر فورسز ’’القوات الشعبیہ‘‘ نامی ملیشیا کے کمانڈر یاسر ابو شباب کی ہلاکت کے بعد اس کے نئے کمانڈر نے حماس کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
یاسر ابو شباب کے ممکنہ جانشین کے طور پر سابق فلسطینی سیکیورٹی افسر غسان الدہینی کا نام سامنے آیا ہے، الدہینی حالیہ جھڑپوں میں زخمی ہوا تھا مگر دو روز قبل ابو شباب کے جنازے میں شریک دیکھا گیا، اور گروہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی اسے رفح میں مسلح افراد کے ساتھ گھومتے دکھایا گیا۔
خير خلف لخير سلف
قائد القوات الشعبية الجديد ” غسان الدهيني ” يتسلم مهامه ويقوم بزيارات تفقدية لجهاز مكافحة الإرهاب.
القوات الشعبية – قطاع غزة pic.twitter.com/O0gboijJ2I
— Yasser Abu Shabab-Popular (@yasserpopular) December 5, 2025
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق انھیں معمولی زخموں کے علاج کے لیے عسقلان کے برزیلائی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسرائیلی چینل 12 کو دیے گئے انٹرویو میں الدہینی نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیلی فوج غزہ سے نکل گئی تو اس کا گروہ حماس کے خلاف اس وقت تک لڑے گا جب تک کہ اسے مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے۔
فلسطینی غدار یاسر ابو شباب ہلاک
انھوں نے کہا کہ وہ ابو شباب کی پالیسی جاری رکھے گا اور ہر سطح پر شدت پسندوں سے مقابلہ کرے گا، ان کے بقول حماس اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اب غزہ میں کسی کو دھمکانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ الدہینی نے کہا کہ ہم اپنی باقی ماندہ طاقت کے آخری حصے تک چھوٹے بڑے تمام شدت پسندوں کے خلاف لڑتے رہیں گے، خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔
واضح رہے کہ ابو شباب مشرقی رفح میں بھڑکنے والے ایک تنازع کے دوران مارا گیا تھا، جب جھڑپ کو روکنے کے دوران اسے گولی لگی۔ ابو شباب کی یہ مسلح جماعت مشرقی رفح کے اُن علاقوں میں سرگرم ہے جو اسرائیلی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ سرگرمی امریکا کے زیرِ سرپرستی 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے جاری ہے۔
جون میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے یہ بات ظاہر کی تھی کہ اسرائیل غزہ کے کچھ قبائل کی مدد کر رہا ہے، جن میں ابو شباب کا گروہ بھی شامل ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’’یہ اقدام مفید ثابت ہوا اور اس سے اسرائیلی فوجیوں کی جانیں بچیں‘‘۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


