اتوار, مارچ 8, 2026
اشتہار

اسرائیلی حراست سے واپس آنے والی فلسطینی لاشوں پر تشدد کے نشانات کا انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

غزہ : اسرائیلی حراست سے واپس آنے والی فلسطینی لاشوں پر بدترین تشدد کا انکشاف سامنے آیا، متعدد لاشوں کی گردنوں پر پھانسی اور رسیوں کے نشانات، ہاتھ پاؤں پلاسٹک کی رسیوں سے بندھے، اور آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق غزہ حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حراست سے واپس آنے والی فلسطینیوں کی لاشوں پر بدترین تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

غزہ حکام نے بتایا کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اب تک 120 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی جا چکی ہیں، جن میں سے بیشتر پر فیلڈ ایگزیکیوشن اور وحشیانہ تشدد کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

غزہ حکومت کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ متعدد لاشوں کی گردنوں پر پھانسی اور رسیوں کے نشانات، ہاتھ پاؤں پلاسٹک کی رسیوں سے بندھے، اور آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔

کئی لاشوں پر قریب سے گولیوں کے نشانات فیلڈ ایگزیکیوشن کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ بعض لاشوں پر ٹینکوں کے نیچے کچلے جانے، گہرے زخموں اور جسم پر جلنے کے آثار بھی پائے گئے ہیں۔

غزہ حکومت نے ان مناظروں کو قابض اسرائیلی فوج کے مجرمانہ اور فاشسٹ رویے کا ثبوت قرار دیتے ہوئے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے بھی اسرائیلی حراست سے واپس آنے والے فلسطینیوں کی لاشوں پر تشدد اور بدسلوکی کی شدید مذمت کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ واقعات اسرائیلی فوج کی نسل کش پالیسی اور انسانیت سوز جرائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

حماس نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قیادت کے خلاف تحقیقات کریں اور ان جرائم پر فوری کارروائی عمل میں لائیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں