The news is by your side.

Advertisement

گزین مری 7روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کوئٹہ : انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے نوابزادہ گزین مری کو 7روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی عدالت ون میں نوابزادہ گزین مری کو پیش کیا گیا، پولیس کی جانب سے نوابزادہ گزین مری کی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے نوابزادہ گزین مری کو 7روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

واضح رہے نوابزادہ مری کو 2015میں انڈسٹریل تھانے اور دیگر تھانوں میں کالعدم تنظیم کے خلاف درج مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کیلئے حراست میں لیا گیا تھا۔

سماعت کی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گزین مری کے وکیل ارباب طاہر کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے موکل کو مقدمہ میں مشتبہ قرار دیکر حراست میں لیا اور اب عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ اس مقدمے میں ملزم ہے۔

گزین مری کے وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمے میں ان کے موکل کا نام ہی نہیں ا س کے باوجود پولیس یہ حربے استعمال کررہی ہے۔

یاد رہے کہ نوابزادہ گزین مری کو بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی ملنے کے فوری بعد کوئٹہ کے انڈسٹریل تھانے میں دوہزار پندرہ کے دوران درج ہونے والے ایک مقدمے کی تحقیقات کے لئے دوبارہ حراست میں لیا گیا تھا۔


مزید پڑھیں : کوئٹہ: نوابزادہ گزین مری رہائی کے فوری بعد دوبارہ گرفتار


روف بلوچ قوم پرست رہنما اور سابق وزیر داخلہ بلوچستان نوابزادہ گزین مری انتیس ستمبر کو تھری ایم پی او کے تحت اس وقت گرفتار ہوئے تھے جب انہیں کوہلو راکٹ باری کیس میں کوئٹہ کی عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تھا۔

تھری ایم پی او کے تحت ان کی گرفتاری ایک ماہ کے لئے تھی تاہم ان کے وکیل نے اس سلسلے میں بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا تھا، عدالت عالیہ بلوچستان نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے گزین مری کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ بلوچ قوم پرست رہنما گزین مری پر مختلف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن میں ان کی ضمانت لی جاچکی ہے۔

بلوچستان میں مری قبیلے کے رہنما نوابزادہ گزین مری کو نوازمری قتل کیس میں 22ستمبر کو ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ 18سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن پہنچے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں