چلاس: حکومتِ گلگت بلتستان نے بھی کفایت شعاری اقدامات کے تحت طلبا، والدین اور تمام شہریوں کے لیے اعلامیہ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ گلگت بلتستان نے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے کے لیے سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر کٹوتیوں اور کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کر دیا۔
جی بی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات تمام سرکاری اداروں، تنظیموں اور کارپوریشنز پر فوری طور پر لاگو ہوں گے۔
سرکاری وسائل کی بچت کے لیے درج ذیل سخت فیصلے کیے گئے ہیں، جس مین سرکاری افسران کی گاڑیوں کے ایندھن میں آئندہ 2 ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں استعمال نہیں کی جائیں گی۔
جون 2026 تک نئی گاڑیوں اور پائیدار اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی عائد رہے گی جبکہ رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے بجٹ میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ، کابینہ اراکین، مشیروں اور گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسران سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی 2 دن کی تنخواہ قومی مقصد کے لیے چھوڑ دیں۔
دفاتراور ورکنگ شیڈول میں تبدیلی
وسائل کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں ہفتہ وار 4 دن کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم ضروری خدمات کے علاوہ 50 فیصد عملہ باری باری گھر سے کام (Work from home) کرے گا۔
سرکاری تقریبات اور بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی ہوگی اور تمام اجلاس فزیکل کے بجائے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوں گے۔ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں کے لیے اہم اعلانات
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے طلبہ اور والدین کے لیے الگ سے اعلامیہ جاری کیا، گلگت بلتستان کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 16 مارچ سے 31 مارچ تک چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
وہ امتحانات جو پہلے سے شیڈول ہیں، اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور ان پر چھٹیوں کا اطلاق نہیں ہوگا، کالجز اور جامعات میں تعلیمی سلسلہ منقطع نہیں ہوگا بلکہ وہاں 100 فیصد آن لائن کلاسز منعقد کی جائیں گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


