The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں انتظامی یونٹس بڑھائیں گے، صدرالدین شاہ کا اعلان

خیرپور: گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور مسلم لیگ ن فنکشنل کے سربراہ صدر الدین شاہ نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم گھوڑا اور بچھو کی مانند ہے جو کبھی تعمیر نہیں ہوسکتا، حکومت میں آنے کے بعد کراچی میں بھی انتظامی یونٹس بڑھائیں گے۔

خیرپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ بھاشا ڈیم وقت کی ضرورت ہے اور یہ تعمیر بھی ہوجائے گا، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر جلد از جلد مکمل ہونی چاہیے۔

اُن کاکہنا تھا کہ سندھ میں پہلے بھی اضلاع بنے جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا، ہم کراچی میں بھی انتظامی یونٹس بنائیں گے البتہ دھرتی کی جغرافیائی حدود پر کبھی سمجھوتا نہیں ہوگا، ملک مضبوط ہوگا تو صوبے بھی مضبوط ہوں  گے۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں کسی کو لوٹ مار نہیں کرنے دیں گے، زرداری نے خود کہا بے نظیر کے قاتلوں کو وہ جانتے ہیں تو اقتدار میں آکر اُن سے قاتلوں کا ضرور پوچھا جائے گا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کو شکست دینے کے لیے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے ہاتھ ملا لیے

واضح رہے کہ پیرصدرالدین شاہ راشدی کی سربراہی میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں اور معروف سیاسی شخصیات نے جی ڈی اے نامی گروپ تشکیل دیا جو ستارے کےنشان پر الیکشن لڑ رہا ہے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے جی ڈی اے پر الزامات عائد کیے گئے جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اپنی انتخابی مہم میں پی پی قیادت کی مبینہ کرپشن کا ذکر کرتی نظر آرہی ہے۔

قبل ازیں ایم کیو ایم اور جے ڈی اے نے نوابشاہ میں آصف علی زرداری کو شکست دینے اور پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان کرتے ہوئے میدان میں مشترکہ امیدوار کھڑے کیے۔

پی پی شریک چیئرمین کے مدقابل متحدہ کے حلقہ این اے 213 پر نامزد امیدوار عبدالرؤف صدیقی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوئے جس کے بعد دونوں جماعتوں نے مشترکہ طور پر سردار بشیر محمد رند کو امیدوار نامزد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ بننے کا اعلان

اسی طرح گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 38 پر متحدہ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا، دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار نعیم اختر ہیں جن کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں