The news is by your side.

Advertisement

غیرت ایمانی اور آج کےفرعون

ویسے تو انٹرنیٹ اسرائیلیوں کے مظالم کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے جن کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہےاپنی بے بسی پر شرم بھی آتی ہے اور ندامت بھی ہوتی ہے- ان مظالم پر خاموشی پر الله تعالی کو جواب دہی کا خیال بھی آتا ہے جو وجود پر لرزہ طاری کردیتا ہے۔

مگر ان سب میں ایک ویڈیو سب سے الگ تھی جب شدت غم میں چلا کر دیکھی تو ایک نازک سی معصوم سی فلسطینی بچی جس کی عمرغالباً دس سال ہوگی فضا میں مکا لہراۓ اسرائیلی فوجی سے احتجاج کررہی تھی اور وہ بزدل سر جھکاۓ کھڑا تھا۔

وہ منظر میری زندگی کا سب سے انوکھا منظر تھا میں بچی کی ہمت اور شجاعت دیکھ کر حیران تھا۔ میں نہیں جانتا یہ اس بچی کا جذبہ ایمانی تھا یا اسکے اندر چھپا وە درد تھا جس کی وجہ اپنوں کی جدائی اور امت مسلمہ کی بے وفائی تھی۔

اس چھوٹی سی شہزادی کے تو ابھی کھیلنے کے دن تھے مگر حالات کی گردش اور دکھوں نے اسے وە پتھر بنا دیا جو اوپر سے بہت مضبوط نظرآتا ہے مگر ہتھوڑے کا ایک وار اسے ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ اس بچی کی قوت ایمانی نے مجھے دکھایا سچا اور پکامسلمان کمزور بدن رکھنے کے باوجود کتنا مظبوط ہوتا ہے اور کافر جدید -اسلحہ رکھنے کے باوجود بے انتہا بذدل ہوتا ہے

:الله تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا

“یہ سب جمع ہو کربھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں”

[القرآن 59:14]

یہی وجہ ہے کفر ہمیشہ چھپ کر وار کرتا ہے، یہ لوگ فضائی کاروائی یا پیچھے سے حملہ کرتے ہیں۔ یہ ہر بات جانتے ہیں مگر مکروفریب انکی شخصیت کا حصہ ہے۔ یہ جانتے ہیں بہت جلد یہ ذلیل و رسوا ہوجائیں گےلہذا اس وقت کی آمد سے قبل ہی یہ مسلمانوں پر زیادە سے زیادە وار کرنا چاہتے ہیں۔

اس بچی کی ہمت اور غیرت مسلمان حکمرانوں سمیت ہم سب بزدلوں کے منہ پر تماچہ ہے۔ آج اگرنہیں بولیں گے تو دشمن ہمارے بچوں، بھائیوں اور بچیوں کا خون بہاتا رہے گا۔

:نواسہ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہ علی و بتولؓ حضرت امام حسینؓ کا قول مبارک ہے

“ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی ہی زیادە قربانی دینا پڑے گی”

کاش اہل عرب پہلے دن سے ہی اسرائیل کا وجود برداشت نہ کرتے۔ جب یہودی فلسطین میں آباد ہورہے تھے تو اہل عرب عیاشیوں میں مصروف تھے۔ اگر کوئی بیدار تھے بھی تو دشمن کے ایجینٹ اور منافق تھے۔ یہودیوں کی آباد کاری بھی چنداسلامی ممالک کی مرضی اور منشا سے ہوئی جن کے بدلے انہوں نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو سونپ دیں۔ ان مسلمان ممالک کے اندھے حکمرانوں سے کوئی اتنا تو پوچھتا: ارے عقل سے خالی حکمرانوں کیا آج تک کفار تمہاری مدد کو آۓ؟ یہ کل بھی تمہارے دشمن تھے آج بھی ہیں۔ اور ہمیشہ رہیں گے۔

اس ویڈیو کو دیکھ کر میرے دل میں ایک حسرت نے سر اٹھایا کہ”کاش یہ بچی ہماری حکمران ہوتی جسکے ننے سے بدن میں جذبہ ایمانی تھااور وە بے خوف تھی۔”

اسرائیل اور امریکہ آج کے فرعون ہیں اور تمام مسلمان حکمران انکے چیلے اور بزدل غلام ہیں۔ ان بزدلوں سے کہہ دو موت کا وقت متعین ہے۔ لہذا ڈرنا چھوڑو دشمن کی ۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرو اور سر اٹھاکر جینا سیکھو ورنہ غلامی کے طوق ڈال کر یوں ہی ذلیل و رسوا هوتے رہو گے

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں