The news is by your side.

Advertisement

بھارت امن کی خواہش کو ہماری کم زوری نہ سمجھے، میجرجنرل آصف غفور

بھارتی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کرایا گیا، امید ہے بھارتی صحافیوں نے جو دیکھا اس سے آگاہ کیا ہوگا

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو کم زوری نہ سمجھا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ بھارت ہماری سول آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، اور مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم سیز فائر معاہدے کو اہمیت دیتے ہیں، بھارت نے 13 سال میں جنگ بندی کی 2 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں، بھارتی فائرنگ سے نقصان نہ ہونے کی وجہ سے ہم ردعمل نہیں دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیز فائر کے معاملے پر بھارتی میڈیا بھی پاکستان کی طرف اپنا رخ موڑ دیتا ہے، اس سلسلے میں پاکستانی میڈیا کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔

بھارت میں حالیہ دو واقعات ہوئے جس کے ثبوت مانگ رہے ہیں لیکن بھارت ثبوت دینے کو تیار نہیں ہے، جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کے کئی واقعات ایسے ہیں جس کا ثبوت بھی موجود ہے لیکن بھارت اس کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی دہشت گردی کا کلبھوشن یادیو کے طور پر ثبوت موجود ہے، بھارتی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کرایا گیا، امید ہے بھارتی صحافیوں نے جو دیکھا اس سے آگاہ کیا ہوگا۔

افغان ایکشن پلان


ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفورنے پریس کانفرنس میں پاک افغان ایکشن پلان پر تفصیل سے بات کی، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے امن کا براہ راست پاکستان پر اثر پڑتا ہے اس لیے پاکستان وہاں قیام امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہم سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن ہو، ہم نے افغان وفد سے پانچ ورکنگ گروپس بنانے سے متعلق بات کی ہے، فوجی رابطوں کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی کام یابی کی خواہش ہے۔

ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ پچاس فی صد علاقہ افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں، اس لیے پاک افغان سرحد پر جیو فینسنگ کی گئی، تاکہ سرحد پار سے حملے بند ہوں، اس دوران ہمارے سات جوان شہید کیے گئے لیکن فینسنگ کا کام بند نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے، ہم اپنی چیک پوسٹوں پرحملہ برداشت نہیں کریں گے، برداشت کی پالیسی ہے لیکن پاکستان کو نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک اور افغان مہاجرین


ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل صفایا کیا گیا ہے جس میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے، آپریشن ضرب عضب کے بعد سب کے خلاف کارروائی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ چند عناصر نے افغان کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں افغان مہاجرین کی باعزت طریقے سے واپسی ہو، ہم پاکستان کے مفاد میں ہر کام کریں گے۔

بلوچستان، سلمان بادینی اور ایران


میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری فورسز نے بہترین کارروائیاں کیں، سلمان بادینی کو مقابلے کے بعد ہلاک کیا گیا، وہ فورسز پر حملوں اور شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔

انھوں نے کہا کہ سلمان بادینی کے نیٹ ورک کے خاتمے کے بعد امید ہے حالات بہتری کی طر ف جائیں گے، بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کو بھی بڑھایا گیا ہے۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایران بارڈر پر بھی حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں، اس سلسلے میں ایران بارڈر سیکورٹی فورس کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن قائم کیا گیا ہے۔

منظور پشتین کے مطالبات جائز تھے


ڈی جی آئی ایس پی آر نے منظور پشتین کے معاملے پر بھی تفصیلی بات کی، انھوں نے کہا کہ وہ خود منظور پشتین اور محسن داوڑ سے ملاقات کر چکے ہیں، ان کے مطالبات جائز تھے۔

انھوں نے کہا کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ کی تمام جی او سیز سے بات کرائی گئی، انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ مسائل حل ہوں گے، محسن داوڑ کی جانب سے شکریے کا پیغام بھی آیا لیکن پھر منظور احمد اچانک منظور پشتین ہو گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد منظور پشتین کی سوشل میڈیا پر مہم چل پڑی اور اس کی آئی ڈیز افغانستان اور بیرون ملک سے چلنا شروع ہوگئیں، فوج کے خلاف پاکستان سمیت بیرون ملک مظاہرے کیے گئے، آرٹیکل لکھے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پروپیگنڈے کا جواب پاکستانی نوجوانوں نے دیا، میں انھیں سلام پیش کرتا ہوں، سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف مہم کا ان نوجوانوں نے خوب جواب دیا، ہمیں اپنی فوج پر یقین رکھنا ہے۔

سوشل میڈیا


انھوں نے پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا کہ اس کے استعمال پر تھوڑی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، جنوری سے مئی تک سوشل میڈیا پر غلط تاثر پھیلایا جاتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سیل آپس میں کھیلتے رہتے ہیں، بہت سے پاکستانیوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھے بھی نہیں ہوں گے، اس کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاک فوج کو الزامات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں، عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر مخالفین کو منھ توڑ جواب مل جاتا ہے۔

کراچی


انھوں کراچی میں امن کے موضوع پر بھی بات کی، کہا کراچی میں مستقل امن کے لیے سیاست کو جرائم پیشہ عناصر سے دور رکھنا ہوگا، کراچی کے امن کے ضامن عوام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر کسی بھی قسم کےالزام کا کوئی اثر نہیں ہوگا، ہمیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں، یہ وردی پولیس، ایف سی، رینجرز سب کی ہے۔

چیک پوسٹوں پر سپاہی شہید ہوتے ہیں،وہ سپاہی پاکستانی ہوتا ہے، افواج پاکستان نے اپنی زندگی ملک کے نام لکھی ہوتی ہے، رد الفساد کے تحت پنجاب میں بھی رینجرز کے آپریشنز جاری ہیں، رینجرز پر بھارتی خلاف ورزی اور آپریشن کا ڈبل پریشر ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی


لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایک کیس سپریم کورٹ میں جاری ہے، ان کی کتاب جیسے ہی آئی فوج نے اس کا جائزہ لیا، انھوں نے کتاب کے لیے این او سی نہیں لیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اسد درانی کو ریٹائر ہوئے 25 سال ہوگئے ہیں، انھوں نے ان واقعات کا ذکر کیا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد ہوئے، تھری اسٹار کا مطلب یہ نہیں کہ جو کچھ بھی کہیں ہم انہیں چھوڑ دیں۔

فوج اور سیاست


ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت نے مدت پوری کی، ہم سے زیادہ کسی کو خوشی نہیں، کہا گیا تھا سینیٹ انتخابات نہیں ہوں گے، الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں ہوگا، سب افواہیں غلط ثابت ہوگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کی قیمت پر الیکشن لڑنا ہے، سیکورٹی فورسز کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، سیاسی الزامات وقت پر چھوڑتے ہیں، پہلے جیسےہی غلط ثابت ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں اور آئندہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سےنکالے۔

فاٹا


میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وانا میں کسی بچی کی موت نہیں ہوئی،سوشل میڈیا پر سب پروپیگنڈا کیا گیا، بچی کی جعلی تصویر لگائی گئی، پاک فوج پر بہت الزامات لگے لیکن وقت کے ساتھ جھوٹے ثابت ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور فاٹا کے نوجوان ہمارے ساتھ ہیں، کچھ بزرگ فاٹا کے انضمام کے حق میں نہیں تھے لیکن نوجوانوں کی اکثریت انضمام سے مطمئن ہے، فاٹا انضمام کا پاک افغان سرحد سے کوئی تعلق نہیں یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں