The news is by your side.

Advertisement

آرمی کی ریسکیو خدمات کا اعتراف، روس کی طرف سے جنرل قمر باجوہ اور 10 افسران کے لیے میڈلز کا اعزاز

راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر فوجی افسران کو روس کی جانب سے اعزازی میڈلز سے نوازا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سےروسی سفیرکی ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی ، تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دورانِ ملاقات باہمی دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور بھی زیر غور آئے۔

پاکستان میں تعینات روسی سفیر الیگزے یوریوش ڈیڈوؤ نے چیف آف آرمی اسٹاف سمیت دیگر فوجی افسران کو روسی کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کے اقدامات کو سراہا اور انہیں اعزازی میڈل سے نوازا۔

مزید پڑھیں: پیوٹن نے روسی کوہ پیما کو بچانے والے پاکستانیوں کو ایوارڈ سے نواز دیا

روسی سفیر نے پاک فوج کے سپہ سالار سمیت دس افسران اور دو اہلکاروں جنہوں نے پہاڑوں میں پھنسے روسی کوہ پیماؤں کی جان بچائی انہیں میڈل سے نوازا۔

یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں روس سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماہ پہاڑوں میں پھنس گئے تھے جنہیں آرمی چیف کی ہدایت پر چھ روز بعد ریسکیو کیا گیا تھا۔

شمالی علاقہ جات کی 23 ہزار فٹ بلند چوٹی لاٹوک ون کو سر کرنے کیلئے آئے روسی کوہ پیما موسم کی خرابی کے باعث وہاں پھنس گئے تھے جنہیں پاک فوج نے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کیا تھا۔

کوہ پیما نے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریسکیو کیا جانا پاک فوج کے بغیر ممکن نہ تھا۔پاکستان آرمی نے مجھے اور میرے دوست کو بچایا۔

الیگزینڈرگوف 20 ہزار650 فٹ کی بلندی پر پچیس جولائی سے پھنسا ہوئے تھے۔ جنہیں ریسکیو کرنے کے بعد سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا اور پھر آرمی چیف نے اُن کی عیادت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کے ہوابازوں نے جان خطرے میں ڈال کر روسی کوہ پیما کو بچایا،روسی سفیر

الیگزینڈر کا کہنا تھا کہ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے، ہیلی کاپٹرکاپائلٹ بہترین تھا، پاکستانی عوام کےدوستانہ رویے سے بہت متاثر ہوا، پاک روس دوستی ہمیشہ زندہ باد رہے۔

خیال رہے پاک فوج کا بیاؤف گلئشیر کا ریسکیو آپریشن اتنی بلندی پر کیا گیا پہلا ریسکیو آپریشن ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان میں جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان اور روس کا ایک ہی مؤقف ہے، اس ضمن میں دونوں ممالک آپس میں رابطے میں بھی رہتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں