The news is by your side.

Advertisement

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام، جرنل سمیت اعلیٰ افسران پر پابندی عائد

پیرس: پورپی یونین نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث میانمار کے فوجی جرنل سمیت سات اعلیٰ افسران پر پابندی عائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اعلیٰ افسران پر سفری پابندی عائد کرتے ہوئے اثاثے بھی منجمد کردیے گئے ہیں جس کے بعد اب مذکورہ افسران یورپ نہیں جاسکیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے میانمار کے اعلیٰ فوجی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں ایک ایسا فوجی جنرل شامل ہے، جو میانمار کی ریاست راکھین میں ملکی فوج کے آپریشن کا سربراہ تھا۔

ملٹری آپریشن کے نام پر میانمار فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے متعدد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے جبکہ سات لاکھ سے زائد روہنگیا اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔


بنگلہ دیش: شدید بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ، 12 روہنگیا مہاجرین جاں بحق


یورپی یونین کی جانب سے پابندی کے اعلان کے بعد میانمار حکام نے ان فوجی اعلیٰ افسران کو عہدے سے برطرف کردیا جن پر یورپی یونین نے پابندی عائد کی ہے۔

خیال رہے کہ دفاعی حوالے سے اس پابندی کی وجہ سے یورپی یونین نے میانمار کی فوج کے ساتھ کسی بھی اشتراک عمل اور تربیتی پروگرام کو قانوناﹰ ممنوع قرار دے رکھا ہے۔


سلامتی کونسل کا میانمار کو جلد روہنگیا مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی ہدایت


خیال رہے کہ گذشتہ سال اگست میں برما کی ریاست رکھائن میں ملٹری آپریشن کے نام پر برمی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تھی جس کے باعث مجبوراً لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے۔

علاوہ ازیں رواں سال 9 مئی کو بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکہ میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا 45 واں اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں مسلم ممالک کے رہنماؤں نے روہنگیا بحران کو مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں