ڈیٹرائٹ (12 نومبر 2025): امریکی کمپنی جنرل موٹرز (جی ایم) نے اپنے ہزاروں سپلائرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ چین سے پرزہ جات اور خام مال کی خریداری ختم کریں، کمپنی چاہتی ہے کہ 2027 تک اس کی سپلائی چَین مکمل طور پر چین سے آزاد ہو جائے۔
روئٹرز کے مطابق جی ایم نے اپنے کئی ہزار سپلائرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی سپلائی چینز سے چین کے پرزہ جات کو ختم کریں، اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیوپولیٹیکل تنازعات کے باعث کاروباری معاملات میں جو رکاوٹیں آ رہی ہیں، ان سے آٹوموبائل کمپنیوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی بے۔
ذرائع کے مطابق جی ایم کے اعلیٰ حکام نے سپلائرز کو کہا ہے کہ وہ خام مال اور پرزہ جات کے لیے چین کی بجائے متبادل ذرائع تلاش کریں، تاکہ اس طرح اپنی سپلائی چینز کو مکمل طور پر چین سے باہر منتقل کیا جا سکے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کمپنی نے بعض سپلائرز کے لیے 2027 تک چین سے روابط ختم کرنے کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔
یہ اقدام امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی اور واشنگٹن کی اُن پالیسیوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کا مقصد صنعتی پیداوار کو امریکا یا اس کے اتحادی ممالک میں واپس لانا ہے۔
عوام سے سب سے زیادہ سیلز ٹیکس بجلی پر وصول کیا گیا یا پٹرول پر؟
ذرائع کے مطابق جی ایم نے کچھ عرصہ پہلے سپلائرز کو یہ پیغام دیا تھا، مگر رواں سال امریکا چین تنازع بڑھنے کے بعد اس پر عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی اسے اپنی ’سپلائی چین مضبوط بنانے‘ کی حکمتِ عملی کا حصہ بتا رہی ہے۔
جی ایم کا کہنا ہے کہ وہ شمالی امریکا میں بننے والی گاڑیوں کے لیے زیادہ تر پرزے مقامی فیکٹریوں سے حاصل کرنا چاہتی ہے، تاہم چین کے علاوہ دوسرے ممالک سے سپلائی لینے پر کوئی پابندی نہیں۔ کمپنی پہلے ہی بیٹریوں اور سیمی کنڈکٹرز کے لیے چین پر انحصار کم کر رہی ہے اور امریکا میں نایاب معدنیات کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم صرف تجارتی نہیں بلکہ امریکی پالیسی کے دباؤ اور چین سے دوری کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


