منگل, ستمبر 8, 2026
اشتہار

جنّت العریف: مسلم اندلس کی ایک خوب صورت یادگار

اشتہار

حیرت انگیز

جنّت العریف (Generalife) مسلم اندلس (اسپین) کے شہرۂ آفاق شہر غرناطہ میں واقع ایک محل ہے جس کے ساتھ ایک شاہی باغ اپنے زمانہ میں خوب صورتی اور قدرتی حسن کے علاوہ اس دور کے معماروں کے ذوقِ نظر اور حسنِ اختراع کی مثال تھا یہ محل اور شاہی باغ شان دار اسلامی طرزِ تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔

اسپین اور اس کے اہم شہروں اور مقامات کی سیر کرتے ہوئے حمزہ فاروقی نے جنّت العریف کی سیر بھی کی تھی اور 1982ء میں اپنا سفرنامۂ اسپین بعنوان ‘آج بھی اس دیس میں’ رقم کیا تھا جس سے یہ اقتباس پیشِ‌ خدمت ہے۔

21 فروری کی صبح کو محی الدین دیب کے ساتھ غرناطہ یونیورسٹی کی سیر کا پروگرام بنا۔ دیب اس یونیورسٹی میں اندلسی عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کر رہے تھے۔ صبح دس بجے ہم ہوٹل سے نکلے۔

غرناطہ کے ایک مقام کو چوک فتح کا نام دیا گیا تھا، اس مقام پر درمیان میں کولمبس اور ملکہ ایزا بیلا کے مجسمے تھے۔ کولمبس نئی دنیا کے سفر پر روانگی سے قبل ملکہ سے پروانۂ راه داری حاصل کر رہا تھا۔ سقوط غرناطہ اور امریکہ کی دریافت ایک ہی سلسلۂ واقعات کی کڑیاں ہیں۔ غرناطہ پر قبضے کے بعد ہی کولمبس کو اس طویل سفر پر جانے کی اجازت ملی تھی۔

یونیورسٹی شہر سے کچھ فاصلے پر پہاڑوں کے درمیان واقع تھی۔ نئی وضع کی عمارات تھیں۔ اردگرد درختوں کا پہرا تھا۔ محی الدین نے اپنے ساتھی طلبہ و طالبات سے میرا تعارف کرایا۔ وہ اسپینی زبان میں یوں چہک رہا تھا جیسے یہ اس کی مادری زبان ہو۔ میرا تعارف اس نے اس انداز سے کرایا کہ گویا میں پہنچا ہوا عالم اور انقلابی ہوں۔ ہماری گفتگو عربی اور انگریزی میں ہو رہی تھی۔ غرناطہ یونیورسٹی میں طلبہ کی سہولت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ان کے لیے کھیلوں کی سہولت بھی تھی۔ سستے داموں کینٹین میں غذا مہیا کی جاتی تھی۔ تقریباً مفت تعلیم تھی۔ یونیورسٹی میں تاریخِ اسلام، عربی زبان و ادب اور عبرانی کے الگ الگ شعبے تھے۔ محی الدین جن صاحب کی نگرانی میں تحقیق کر رہے تھے وہ عربی زبان و ادب کے ماہر تھے۔ انگریزی جانتے تھے، لیکن عربی میں گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔ ان سے دیر تک تاریخی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

کچھ دیر بعد بات چیت کا رخ ایرانی انقلاب کی طرف مڑ گیا۔ مجھ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے جواب دیا۔ کوئی طرزَ حکومت بادشاہت سے بڑھ کر خراب نہیں ہو سکتا۔ ایران میں حالات کو اعتدال میں آنے میں وقت درکار ہے۔ اکثر انقلاب کے قائدین سب سے پہلے انقلاب کا نشانہ بنتے ہیں۔ انقلاب میں کئی قوتیں بیک وقت کارفرما ہوتی ہیں۔ ان کی داخلی کشمکش جاری رہتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد صورتِ حال مستقل اور واضح شکل اختیار کرتی ہے، میں نے اس ضمن میں انقلابِ فرانس اور انقلابِ عراق و شام کی مثالیں دیں۔ میری اس رائے سے دیگر حضرات نے بھی اتفاق کیا۔ اس گفتگو کے بعد چند ساتھیوں کے ساتھ ہم نے کینٹین میں کافی پی اور دوپہر کے وقت میں اپنی قیام گاہ پر واپس آیا۔ میں نے پاکستانی دوستوں کو فون کیا اور پروگرام بنایا کہ تین بجے ہم جنت العریف کی سیر کو جائیں گے۔

جنت العریف کو جانے کے لیے دو راستے تھے۔ ایک قصر الحمرا سے ہو کر گزرتا تھا تو دوسرا جنگل سے ہو کر گزرتا تھا۔ ہم نے جنگل والے راستے کا انتخاب کیا۔ اس راستے پر سبزہ اس قدر تھا کہ زمین تک سورج کی شعاعوں کی رسائی ممکن نہ تھی۔ درختوں کے گھنے سائے تلے عطر بیز ہوا چل رہی تھی جس میں جنگلی پھولوں کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف پہاڑی چشموں کا ٹھنڈا، شفاف پانی بہہ رہا تھا۔ کل اگر تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی تو آج آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔

باغوں کو جانے والا راستہ بتدریج بلند ہوتا چلا گیا تھا۔ آخر کچھ دیر بعد ہم عربوں کی بنا کردہ جنت میں تھے۔ اس مقام پر عربوں نے خوبصورت مکان، نہریں، فوارے اور گھاس اور پھولوں کے تختے سجا رکھے تھے۔ یہ اس قدر حسین مقام تھا کہ رنج وغم سے بھرپور دنیا سے اسے کوئی مناسبت نہ تھی۔ ہر چیز ایک خاص تناسب اور سلیقے سے بنی ہوئی تھی۔ نہروں میں فوارے چل رہے تھے۔ ان کا پانی زور و شور سے اوپر جا کر اچھلتا تو منظر اور بھی دل فریب ہو جاتا۔ عمارتوں کے اندرونی نقش و نگار قصر الحمرا کی دیگر عمارات کی مانند تھے۔

ایک بلند مقام پر ہم نے وہ تالاب دیکھا جس میں مختلف چشموں کا پانی جمع ہوتا اور یہاں سے دیگر مقامات کو تقسیم ہوتا تھا۔ یہاں دریائے ڈارو سے بھی پانی آتا تھا۔ اوّل تو اس بلندی تک پانی پہنچانا دشوار تھا، دوسرے یہاں سے دیگر مقامات پر سلیقے سے پانی منتقل کرنا اور بھی دشوار تھا۔ اس انتظام کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس جگہ سے غرناطہ شہر، البسین کا قصبہ اور سیکرو مینٹو کے غار اپنی تمام تر دل فریبیوں کے ساتھ نظر آتے تھے۔ آسمان پر سیاہ بادلوں کا راج تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ بنت العریف کا حسن مسحور کن تھا اور اس کا پہلا تأثر نوجوانی کے پہلے عشق کی مانند بھرپور اور دل فریب تھا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں