The news is by your side.

Advertisement

جارج فلائیڈ قتل، برطانوی عوام نے امریکی سفارتخانے کا گھیراؤ کرلیا

لندن : نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرنے والی برطانوی عوام نے امریکی سفارتخانے کا گھیراو کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں آج پھر امریکی پولیس افسران کے ہاھتوں بہیمانہ تشدد کے بعد موت کے منہ میں جانے والے سیاہ فام امریکی کی ہلاکت پر احتجاج ہورہا ہے، مظاہرین مسلسل نسلی تعصب اور سیاہ فام نسل کشی کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔

جارج فلائیڈ کے قتل نے دنیا بھر میں نسلی تعصب کے خلاف لوگوں کو اٹھنے پر مجبور کردیا ہے، برطانوی دارالحکومت میں گزشتہ تین روز سے مسلسل احتجاج ہورہا ہے اور آج ہزاروں کی تعداد میں موجود مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کا گھیراوٗ کرلیا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ وسطی لندن میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی تاہم لندن کے دیگر علاقوں میں پرامن مظاہرے جاری ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک نے مظاہرین نے اپیل کی ہے کہ وہ اس وبائی صورتحال کے دوران کسی اور طریقے سے احتجاج کرلیں تاکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی سے بچا جاسکے لیکن لیبر پارٹی کی رہنما لیزا نینڈی نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام نسلی پرستی پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے‘۔

شیڈو سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ جوانوں کو آواز اٹھانے کا پورا حق ہے لیکن انہوں نے مظاہرین سے سماجی فاصلہ بنائے رکھنے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ’نسل پرستی ایک وبا ہے‘ جیسے نعرے درج تھے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد بھی امریکی پولیس کا رویہ نہ بدلا

خیال رہے کہ کچھ روز قبل امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جارج فلائیڈ کی گردن پر سفید فام پولیس افسر کافی دیر تک گھٹنا رکھ کر بٹھا رہا اور جارج فلائیڈ چیختا رہا کہ ’پلیز پلیز میری ماں کو بلادو، مجھے سانس نہیں آرہی‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں