The news is by your side.

Advertisement

پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کیلئے امریکا میں کرفیو کا اعلان

واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ نے سیاہ فام امریکی شہری کے بہیمانہ قتل کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کےلیے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا میں کچھ روز قبل چار پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں بدترین تشدد کے بعد ایک سیاہ فارم امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے خلاف ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔

شہروں میں کرفیو کے نفاذ کے اعلان کے باوجود مختلف شہروں میں مظاہرین کی جانب سے جلاوٗ گھیراو، لوٹ مار اور عمارتوں میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ کا جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی پولیس اہلکاروں کی جانب سے پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کےلیے مظاہرین پر آنسو گیس کے سیل فائر کیے گئے اور ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام شہری کی موت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو کسی صورت قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث 44 سالہ سابق پولیس افسر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جسے پیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس افسر متاثرہ شخص کی گردن پر کافی دیر تک گھٹنا رکھے بٹھا رہا جو اس کی موت کا باعث بنا۔

سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف مسلسل پانچویں روز بھی مظاہرے جاری ہیں، مشتعل افراد نے کئی گاڑیوں اور درجنوں املاک کو نذر آتش کردیا ہے، مظاہرین نے پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگا دی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں