ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق ممبر کو 6 ماہ قید کی سزا دینے کی تجویز پیش George Papadopoulos
The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے سابق ممبر کو 6 ماہ قید کی سزا دینے کی تجویز پیش

واشنگٹن : ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق ٹیم ممبر جارج ڈیمیٹروس کو سنہ 2016 کے صدراتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر 6 ماہ قید کی سزا دینے کی تجویز پیش کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے خصوصی کونسل رابرٹ میولر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات کے دوران حامی و اتحادی جارج ڈیمیٹروس کو چھ ماہ قید کی سزا دینے کی تجویز پیش کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادرے کا کہنا تھا کہ سنہ 2016 کے صدراتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ رابرٹ میولر نے کہا ہے کہ جارج ڈیمیٹروس کو سزا دینا ’مناسب اور ضروری ہے‘۔

امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ جارج ڈیمیٹروس نے اعتراف کیا ہے کہ جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم کا حصّہ تھے اس وقت روسی حکام سے ان کے رابطے تھے تاہم انہوں نے تحقیقات کے دوران رابطے نہ ہونے کا جھوٹ بولا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ڈیمیٹروس کو 7 ستمبر کو سزا سنائی جائے گی۔

امریکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ ڈیمیٹروس نے تفتیش کے دوران امریکی سیکیورٹی ایجنسی ایف بی آئی سے جھوٹ بولا تھا کہ ان کا رابطہ گرفتار ہونے والے روسی جاسوسوں سے نہیں تھا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق لندن کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ روس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدراتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی کردار کشی تھی۔

خیال رہے کہ امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنی شکست کے لیے روس کو ذمہ دار ٹھہرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف میرے اور میری مہم پر حملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے خلاف ہے۔

یاد رہے کہ روس پر امریکی صدارتی مہم میں مداخلت کا الزام ثابت ہوا تھا، صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کی تحقیقات کے دوران صدرٹرمپ کی صدارتی انتخاب کی مہم کےسابق انچارج پال مانافورٹ سمیت تین افراد پرفرد جرم عائد کی گئی تھی۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل ماہ اکتوبر میں امریکی حکومت نے روس پر ڈیموکریٹک پارٹی پر سائبر حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں