The news is by your side.

Advertisement

مشہور مزاحیہ اداکارہ جو اسٹیج پرفارمنس کے دوران گر پڑی

یہ 1916 کے مئی کا واقعہ ہے جب ڈورٹ ویکسلر پہلی بار اسٹیج پرفارمنس کے لیے حاضرین کے سامنے تھی۔

وہ کوئی عام پرفارمنس بھی نہیں‌ تھی بلکہ تماشائی اس روز ڈورٹ ویکسلر ہی کے لیے جرمنی کے اس ہال میں‌ جمع ہوئے تھے۔ فلم اور آرٹ سے متعلق ایک مشہور کمپنی نے ”ڈورٹ ویکسلر ویک“ کا اہتمام کیا تھا۔

حاضرین ڈورٹ کی مزاحیہ پرفارمنس سے محظوظ ہورہے تھے کہ اچانک جھومتی ہوئی ڈورٹ اسٹیج پر گر پڑی۔ کہتے ہیں اس کے دماغ کے اعصاب کو کوئی نقصان پہچا تھا۔

27 مارچ 1892 کو پیدا ہونے والی ڈورٹ ویکسلر کا تعلق جرمنی سے تھا جہاں‌ اس نے فلموں میں بہ طور مزاحیہ اداکارہ اپنی پرفارمنس سے شائقین کی توجہ حاصل کی اور خوب نام کمایا۔

1911 میں ڈورٹ ویکسلر نے ایک مختصر دورانیے کی خاموش فلم میں اپنا مزاحیہ کردار اس خوبی سےنبھایا کہ ہر طرف اس کا نام چرچا ہونے لگا۔ بعد میں‌ اس نے مشہور ہدایت کار فرانز ہوفر کی متعدد فلموں میں‌ مزاحیہ کردار ادا کیے اور فلم بینوں سے داد سمیٹی۔

1915 تک وہ جرمنی ہی نہیں‌ یورپ کے دیگر ملکوں‌ میں‌ بھی مزاحیہ اداکارہ کے طور پر پہچان بنا چکی تھی۔

ڈورٹ ویکسلر نے اس وقت کے ایک مزاحیہ اداکار ارنسٹ لبیٹسچ کے ساتھ بھی کام کیا اور ان کی جوڑی بہت مشہور ہوئی۔ ان کی پرفارمنس لوگوں کو قہقہے لگانے پر مجبور کردیتی اور اسی کو دیکھتے ہوئے پال آٹو اور پال ہائیڈمین جیسے جرمن ہدایت کاروں نے بھی انھیں اپنی فلموں میں مرکزی کردار سونپے۔

اس روز اسٹیج شو کے دوران اچانک چکرا کر گرنے والی ڈورٹ کو فورا اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ زندگی کی طرف نہ لوٹ سکی۔ اس حادثے کے چند ماہ بعد نومبر کے مہینے میں‌ اس نے موت کو گلے لگا لیا۔

اس زمانے میں مارفین کو بطور دوا استعمال کیا جاتا تھا جو دوانِ علاج اسے بھی دی جاتی رہی اور اس نے ڈورٹ ایکسلر کے دماغ اور اعصاب کو گویا موت پر آمادہ کرلیا۔

ایک روز جرمن فلموں‌ کی اس مشہور اداکارہ نے گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ موت کے وقت اس کی عمر 24 سال تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں