نوشہرہ میں بننے والی سڑک کے تخمینے پر جرمن سفیر کا سوال، کے پی حکومت کا جواب -
The news is by your side.

Advertisement

نوشہرہ میں بننے والی سڑک کے تخمینے پر جرمن سفیر کا سوال، کے پی حکومت کا جواب

پشاور: ضلع نوشہرہ کے علاقے ازاخیل بالا میں بننے والی ایک سڑک کی لاگت پر جرمن سفیر نے اعتراض کر دیا، کہا یہ غیر معیاری سڑک اتنی مہنگی کیوں بنائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ازاخیل میں بننے والی سڑک پر جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے ٹویٹ کے ذریعے سوال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سڑک کی تعمیر مہنگی کیوں ہے؟

کمیونٹی کی جانب سے بنائی گئی سڑک میں کسی قسم کے ٹیکس ادا نہیں کیے گئے، جب کہ حکومت تمام تر ٹیکس ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

شوکت یوسف زئی

جرمن سفیر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ازاخیل میں ایک کلو میٹر 12 انچ تہہ کی سڑک تیار ہوئی، جرمنی کے تعاون سے بننے والی یہ سڑک 40 لاکھ میں بنی، لیکن کے پی حکومت نے 6 انچ تہہ کی ایسی سڑک ایک کروڑ میں بنائی، کوئی بتا سکتا ہے کہ لاگت میں اتنا فرق کیوں ہے؟

کے پی کے وزیرِ اطلاعات شوکت یوسف زئی نے جرمن سفیر کے ٹویٹ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کی بنائی گئی سڑک میں سیفٹی اسٹینڈرڈ اور انجینئرنگ ڈیزائن کا ذکر نہیں ہے۔

شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ حکومت مٹیریل ٹیسٹ اور عالمی ڈیزائن کے معیار کے تحت سڑکیں بناتی ہے، کمیونٹی کی جانب سے بنائی گئی سڑک میں کسی قسم کے ٹیکس ادا نہیں کیے گئے، جب کہ حکومت تمام تر ٹیکس ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی بنائی گئی سڑک میں کراس ڈرینیج اور نکاسی کا ذکر بھی نہیں ہے، صوبائی حکومت قوانین کے تحت رجسٹرڈ کنٹریکٹرز کو ٹھیکے فراہم کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت انجینئرز کی رائے پر کم بولی لگانے والے کنٹریکٹرز کو ٹھیکے دے رہی ہے، کم بولی والے کنٹریکٹرز کو ٹھیکے دینے سے خزانے کو خاطرِ خوا بچت ہو رہی ہے۔

دریں اثنا وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اجمل وزیر نے کہا کہ وہ جرمن سفیر کی بات کی تردید نہیں کرتے تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ کمیونٹی اور حکومتی سطح کے منصوبے میں فرق ہے، حکومتی سطح پر ٹیکس، ٹائم کوسٹ اور ٹینڈر کے مسائل ہوتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں