The news is by your side.

Advertisement

جدید ٹیکنالوجی نے سرکس کے جانوروں پر ظلم کا راستہ بند کردیا

زمانہ قدیم سے سرکس بچوں اور بڑوں سب کے لیے باعث تفریح رہا ہے، مختلف کرتب دکھاتے جانور اور خونخوار درندے اپنے مالک کے اشارے پر چلتے حاضرین کو دنگ کردیتے ہیں۔

تاہم ان جانوروں کی فرمانبرداری کے پیچھے اس قدر دردناک مظالم چھپے ہیں کہ ان کی تفصیل میں جایا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جانوروں کو سدھانے کے لیے ان پر بہیمانہ تشدد اور انہیں کئی کئی دن بھوکا پیاسا رکھنا عام بات ہے۔

دنیا بھر میں جانوروں کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیمیں طویل عرصے سے جانوروں کی حالت زار پر توجہ دینے اور سرکس کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم اب حال ہی میں ایسا سرکس پیش کیا گیا ہے جس میں کسی جانور کو ظلم و تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

جرمنی کے مشہور زمانہ سرکس میں پہلی بار جانوروں کے تھری ڈی ہولو گرامز پیش کیے گئے۔ یہ ہولو گرامز روایتی جانوروں کے کرتبوں کے علاوہ وہ کرتب بھی دکھا رہے ہیں جو اصل جانور پیش نہیں کرسکتے۔

سرکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرکس کے لیے جانوروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے اور اس پروجیکٹ کے لیے انہیں 6 سال کا عرصہ لگا۔

سرکس کے اس اقدام کو نہ صرف لوگوں نے پسند کیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اسے بے حد پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ جانوروں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں