22 سال کے پاکستانی نوجوان کی محبت میں 26 سالہ جرمن ڈاکٹر کو شادی کے لیے پاکستان کھینچ لائی۔
منڈی بہاؤ الدین کے گاؤں دیفار کے رہائشی محمد اکمل نے مبینہ طور پر آن لائن ویڈیو گیم ’روبلوکس‘ کے ذریعے جرمنی کی ڈاکٹر سلمیٰ سے رابطہ قائم کیا۔
ڈاکٹر سلمیٰ جرمن اور بوسنیائی شہریت رکھتی ہیں اور اب وہ محمد اکمل کے ساتھ پاکستان میں رہنے کی خواہشمند ہیں۔
ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اکمل نے بتایا کہ آن لائن ویڈیو گیم کھیلنے کے دوران ان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا جو گہری دوستی میں بدل گیا، ہم پانچ ماہ تک رابطے میں رہے اور اب سلمیٰ مجھ سے شادی کرنے کے لیے پاکستان آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے گفتگو کے پہلے ہی دن سلمیٰ کو پروپوز کردیا تھا، پہلے تو وہ پاکستان آنے میں تھوڑا ہچکچا رہی تھیں لیکن بعد میں راضی ہوگئیں۔
اکمل نے بتایا کہ ان کے گھر والوں کو شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ انہوں نے سلمیٰ کے فیصلے کی مکمل حمایت کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’سفر اور شادی کی تقریب پر 37 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آئے ہیں۔
سلمیٰ نے کہا کہ جب میں پاکستان آئی اور یہاں کی دیہاتی زندگی اور روزمرہ کے کام کاج دیکھے تو پہلے حیران رہ گئی لیکن میں شوہر کے ساتھ رہ کر بہت خوش ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ گھر کے کام کاج جیسے برتن، کپڑے دھونا اور روٹی بنانا میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا، اگرچہ شروع کے چند دنوں میں یہ مشکل لگا پھر آہستہ آہستہ سیکھ لیا۔
جرمن خاتون کاکہنا تھا کہ وہ نئے خاندان کے ساتھ بات چیت کو بہتر بنانے کے لیے اب اردو اور پنجابی سیکھنے کی کوشش کررہی ہیں۔
محبت کی یہ خوبصورت کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جہاں صارفین جوڑے کی سادگی، خلوص اور محبت کی تعریف کررہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


