The news is by your side.

Advertisement

جرمن وزیر خارجہ کا دورہ، یورپین یونین سے معاہد ہ ہوگا، شاہ محمود قریشی

سی پیک کو خطرہ نہیں چین سے فیز 2 کا معاہدہ طے کرلیا، وفاقی وزیر خارجہ

ملتان: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں ہے چین کے ساتھ فیز 2 کا معاہدہ طے کرلیا، جرمنی کے وزیر خارجہ رواں ماہ پاکستان لائیں گے، ہمارا یورپی یونین سے نیا معاہدہ بھی ہونے جارہا ہے۔

ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو بہت سارے چیلنجز کا سامنا تھا، ہم نے بہت سارے امتحانات میں کامیابی حاصل کی اور پُر اعتماد طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین میں شامل 28 ممالک نے ہمیشہ پاکستان کی طرف انگلیاں اٹھائیں، ہرطرف سے ہمیں تنہاکرنےاور نیچا دکھانےکےخاکےبنائےگئے، گزشتہ دورِ حکومت میں ایک ادارے نے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سب سے بڑی ٹریڈنگ کی مارکیٹ ہے، رواں ماہ یورپی یونین کےساتھ پاکستان ایک نیا معاہدہ کرنے جارہا ہے،  جرمنی کے سفیر پاکستان کا دورہ کریں گے، پارلیمنٹ اور پارلیمانی اراکین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے ملک کے لیے مثبت اقدامات میں حکومت کا ساتھ دیا۔

چین کے ساتھ فیز 2 کا معاہدہ طے کرلیا، سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں ہے

شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب حکومت سنبھالی تو یہ پروپیگنڈا شروع ہوا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو خطرات ہیں مگر میں برملاکہتاہوں سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہم آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں، آج ہم نےچین کے ساتھ فیز ٹوکا معاہدہ کرلیا، جس کے تحت پاکستان میں غربت مٹانے کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایشیاء کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان 2019 میں کیا، ٹرمپ کی اپنی حکمتِ عملی ہے مگر پاکستان کا ہر بار یہی مطالبہ رہا کہ افغان جنگ سے مسئلے کا حل نہیں ہے، افغانستان میں امن کا فائدہ پاکستان کو بھی ہوگا۔

وفاقی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ سابقہ ادوار میں اہم ادارے تنزلی کا شکار تھے، پاکستان اسٹیل، پی آئی اے سمیت کئی ادارے دیوالیہ ہوچکے تھے مگر ہم نے اقدامات کیے اور اب انہیں ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم پر تنقید

وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نریندرمودی کےکچھ عزائم کا ہمیں پہلے علم تھا، ہم جانتے تھے کہ بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف الیکشن سے قبل کچھ ضرور کرے گی،پلوامہ واقعےسےکئی ہفتے قبل سفیروں کوبلا خدشے سے آگاہ کردیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مودی نے اپنی پالیسی بیان کی کہ وہ پاکستان کوتنہاکرناچاہتاہے، بھارت نےبنگلادیش کاسہارا لےکرسارک کویرغمال بنایا، آج مشرقی پاکستان میں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔

بھارت سے امن کی خواہش کا ہرگز یہ مطلب نہیں کشمیر کا سودا کریں گے

وفاقی وزیر خارجہ

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم اور اقدامات کے خلاف میں نے اقدام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھا اور تمام حالات سے آگاہ کیا، آج دنیا ہمارے تحفظات پر غور کررہی ہے۔

وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم بھارت کے ساتھ امن کے خواہش مند ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کشمیر کا سودا کردیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ وہ کشمیرکی صورتحال دباؤ سےبدل دے گا، ہندوستان کو سوچناچاہے آج کشمیرکی تحریک نےکیوں جنم لیا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اگربھارت کاوزیر خارجہ ہوتاتومجھےرات کونیندنہیں آتی، کشمیرمیں جنازےاٹھ رہےہیں نوجوان کاندھوں پر لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جون 2018 کی رپورٹ کا مطالعہ کریں، 29ستمبر2018کو اقوام متحدہ کےفلورپر اردو میں کشمیر کے معاملے کو اجاگر کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں