The news is by your side.

Advertisement

جرمن حکومت کی عوامی سطح پر مقبولیت میں کمی، سروے رپورٹ

برلن : جرمن حکومت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان تارکین وطن کے معاملے پر اختلافات منظر عام پر آنے کے باعث وفاقی حکومت کی عوامی شہرت میں کمی واقع ہونے لگی۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کی وفاقی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے درمیان تارکین وطن سے متعلق پالیسی پر شدید اختلافات منظر عام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر حکومت کی مقبولیت میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی۔

جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’ڈوئچ لانڈ ٹرینڈ‘ نامی سروے کے دوران ملک کی 80 فیصد سے زائد عوام حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ناخوش ہیں۔ جمعرات کے روز جاری کی جانے والی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انجیلا میرکل کی حکومت عوام میں اپنی پذیرائی کھو رہی ہے۔

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کے 80 فیصد سے زائد عوام ملک کی اتحادی حکومت کی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں اور کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے حوالے سے عوامی سروعے ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اتحادی حکومت میں شامل پارٹیوں ’سی ایس یو، سی ڈی یو اور ایس پی ڈی‘ کے درمیان گذشتہ کئی دنوں سے تارکین وطن اور مائیگریشن کی پالیسیوں پر اختلافات جاری ہیں۔

عوامی سروے کے دوران عوام کا کہنا تھا کہ جرمنی کی موجودہ حکومت تارکین وطن اور مہاجرین کے بحران کے حوالے سے پالیسیوں پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، تاہم دیگر ملکی معاملات پر کوئی توجہ ہی نہیں دی جارہی۔

خیال رہے کہ جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کے درمیان مہاجرین کے معاملے پر اختلافات شروع ہوئے تھے جو اب حکومت میں شامل تینوں جماعتوں کے درمیان پھیل چکا ہے۔

جرمنی کے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر ان تارکین وطن کو جرمنی کی سرحد سے ہی لوٹانا چاہتے ہیں جنہوں نے دیگر یورپی ممالک میں بھی پناہ کی درخواستیں دی ہوئی ہیں، جبکہ جرمن چانسلر جرمنی کی سطح پر کوئی بھی پالیسی بنانے کے بجائے یورپی سطح پر پالیسی بنانے کے حق میں ہیں۔

سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی کی اتحادی جماعتیں سی ایس یو اور سی ڈی یو کی مقبولیت میں کمی کے باعث تارکین وطن کی مخالف جماعت اے ایف ڈی کی عوام پذیرائی پہلے سے زیادہ ہورہی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں