افغان مہاجر کی خودکشی کی ذمہ دار شہری انتظامیہ ہے، جرمن وزیر داخلہ german-interior-minister
The news is by your side.

Advertisement

افغان نوجوان کی خودکشی کی ذمہ دار شہری انتظامیہ ہے، جرمن وزیر داخلہ

ویانا: جرمنی سے افغان مہاجرین کی ملک بدری کے بعد ایک افغانی نوجوان کی خودکشی کے معاملے پر جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے واقعے کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ڈال دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جرمن شہری اور اپوزیشن جماعتیں گذشتہ ہفتے ملک بدر کیے جانے والے افغان نوجوان کے خودکشی کا الزام وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر پر عائد کررہے تھے، جس پر ہورسٹ زیہوفر نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغان مہاجر کی خودکشی کا ذمہ دار شہری انتظامیہ کو ٹھرایا ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کا کہنا تھا کہ افغان تارکن وطن کو گذشتہ ہفتے ملک بدر کیا گیا تھا اور ملک بدر کیے جانے والے نوجوان نے کابل کے پناہ گزین کیمپ میں خودکشی کی ہے، لہذا اس کی موت کی ذمہ مجھ پر عائد نہیں کی جاسکتی۔


جرمنی سے افغان مہاجرین کی ملک بدری، ایک نوجوان نے خودکشی کرلی


خیال رہے کہ جرمنی کی اپوزیشن جماعتیں افغان نوجوان کی خودکشی کا الزام ہورسٹ زیہوفر پر عائد کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کہنا ہے کہ افغان تارک وطن کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ کی شہری انتظامیہ نے ملک بدر ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔


جرمنی نے 69 تارکین وطن کو واپس افغانستان پہنچا دیا


غیر ملکی خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے زیہوفر کا کہنا تھا کہ ’ افغان نوجوان کا خودکشی کرنا انتہائی افسوس ناک ہے، لیکن میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کو ہیمبرگ کی مقامی انتظامیہ سے نوجوان کی خودکشی اور ملک بدری کے حوالے سے سوال کرنا چاہیئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں