The news is by your side.

Advertisement

جرمنی، سابق نرس کا 100 مریضوں کو قتل کرنے کا اعتراف

برلن: جرمنی میں ایک سابق نرس نے 100 مریضوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی میں ایک سابق نرس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے زیر نگرانی 100 مریضوں کو قتل کیا تھا، حکام کا کہنا ہے کہ دو مختلف اسپتالوں میں 41 سالہ نیلز ہوگل اپنی زیر نگرانی مریضوں کو مہلک مقدار میں ادویات دیتا تھا۔

تحقیقات کے مطابق اس کا مقصد ان مریضوں پر پہلے حملہ کرنا اور پھر ان کے اوسان بحال کرکے اپنے ساتھیوں کو متاثر کرنا تھا، نیلز ہوگل پہلے ہی اپنی زیر نگرانی چھ اموات کی وجہ سے عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔

حکام نے الزام لگایا ہے کہ نرس نے اولڈن برگ میں 36 اور ڈلم ہورسٹ میں 64 مریضوں کو 1999 سے 2005 کے دوران قتل کیا۔

جرمنی میں ہیلتھ حکام کے لیے یہ کیس انتہائی حساس ہے کیونکہ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے نیلز ہوگل کی کارروائیوں کو نظر انداز کیے رکھا۔

تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نرس نے 100 سے زائد افراد کو قتل کیا ہو تاہم ان کی لاشوں کو آخری رسومات کے دوران جلادیا گیا ہو۔

مرنے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اسکینڈل ہے کہ ایک قاتل کو اتنے عرصے بغیر کسی سرکاری نگرانی کے اتنے لوگوں کو مار دیا گیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کئی برسوں سے اس مقدمے کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہوگل کو 100 قتل کی سزا ضرور ملے گی۔

سن 2005 میں نیلز ہوگل کو ڈلم ہورسٹ میں ایک مریض کو غیرتجویز کردہ دوا دیتے ہوئے پکڑا گیا تھا اسے 2008 میں اقدام قتل کا جرم ثابت ہونے پر سات سال قید کی سزا دی گئی تھی، سن 2014 میں انہیں مزید دو قتل اور دو اقدام قتل کے مقدمات میں سزا دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں