The news is by your side.

Advertisement

جرمنی: چڑیا گھر سے خونخوار جانور فرار، حکام نے شہریوں کو خبردار کردیا

برلن : جرمنی کے شہر لونباک میں طوفانی بارشوں کے بعد چڑیا گھر کے میں موجود دو شیر، دو ٹائیگر اور ایک چیتا فرار ہوگئے ہیں، حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ گھروں سے نکلنے سے گریز کریں۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک جرمنی کے شہر لونباک میں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے باعث شہر کے قدیمی چڑیا گھر میں موجود جنگلی جانور فرار ہوگئے ہیں۔

جرمن پولیس کا کہنا تھا کہ چڑیا گھر سے دو شیر، دو ٹائیگر اور ایک چیتا بھاگے ہیں، مقامی حکام نے شہریوں کو خبر دار کیا ہے کہ جب تک مفرور جانوروں کو پکڑ نہ لیا جائے شہری اپنے گھروں میں رہیں اور کوئی بھی جنگلی جانور نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چڑیا گھر کے ایک ملازم نے پولیس کو آگاہ کیا کہ ایک ریچھ بھی چڑیا گھر سے بھاگا تھا جسے بعد میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

جرمن پولیس کا کہنا تھا کہ چڑیا گھر کے جنگلی جانوروں کو شہر میں آنے والے سیلاب کے بعد بھاگنے کا موقع ملا تھا، کیوں کہ سیلاب کے باعث ان کے پنجرے ٹوٹ گئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ شیر، ٹائیگر اور چیتا اسی علاقے میں ہیں یا کہیں اور نکل گئے ہیں، تاہم سیکیورٹی ادارے، فائر فائٹرز اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے عملے ہمراہ جانوروں کی تلاش کررہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذکورہ چڑیا گھر جرمنی کے والپوٹ خاندان کی ملکیت ہے، جس کا رقبہ 74 ایکڑ سے زائد ہے جس میں سائبرین ٹائیگر اور شیر سمیت 60 اقسام کے تقریباً 400 جانوروں کے گھر تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ والپورٹ خاندان نے سنہ 1965 میں مذکورہ چڑیا گھر کو کتوں، گدھوں اور جنگلی سور سے شروع کیا تھا، چڑیا گھر عملے کے مطابق ہر سال 70 ہزار افراد چڑیا گھر کا دورہ کرتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز چڑیا گھر سے جنگلی جانوروں کے فرار ہونے سے دو سال قبل جرمنی کے مشرقی شہر لائپز کے چڑیا گھر سے بھی دو شیر بھاگے تھے جن میں سے ایک کو دوبارہ پکڑ لیا تھا جبکہ دوسرے شیر کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں