The news is by your side.

Advertisement

جرمنی : تارکین وطن کو اگست 2018 سے قبل ملک بدر کرنے کا فیصلہ

برلن : جرمنی کے صوبے باویریا کی حکومت نے پناہ گزینی کی درخواست مسترد ہونے والے تارکین وطن کو اگست 2018 سے قبل جرمنی سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک جرمنی کے صوبے باویریا کے حکومتی اراکین نے غیر ملکی تارکین وطن کو خصوصی طیاروں سے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے.

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کی پناہ کے لیے دی گئی درخواست مسترد کردی گئی ہے.

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ریاست باویریا کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ اس وقت میں کیا گیا ہے کہ جب چند ماہ بعد صوبائی الیکشن کا انعقاد ہونا ہے.

واضح رہے کہ جرمنی کی وفاقی حکومت قدامت پسند جماعت کرسچن سوشل یونین کے پاس ہے۔ جس کی سربراہ جرمنی کی چانسلر انجیلا مریکل ہیں۔

وزیر اعلیٰ مارکوس زونڈر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو اگست 2018 سے قبل ملک بدر کرنے کی منصوبہ کی گئی ہے، جس میں مہاجرین کو خصوصی طیاروں کے ذریعے ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے کے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت تارکین وطن کی سہولت کے لیے سات بڑے رجسٹریشن سینٹر بھی قائم کیے جارہے ہیں، جب تک تارکین وطن کی پناہ گزینی کا فیصلہ نہیں آجاتا مہاجرین کو ان مراکز میں ہی قیام کرنا ہوگا۔

مارکوس زونڈر کا کہنا تھا کہ جرمنی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی اکثریت آسٹریا کی سرحد عبور کرکے جرمنی میں داخل ہوئی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق سنہ 2015 سے ابتک باویریا میں ایک ملین سے زائد تارکین وطن پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے باویریا کے گذشتہ الیکشن میں انجیلا مریکل کی قدامت پسند جماعت سی ایس یو کے حامیوں نے عوامیت پسند جماعت کو ووٹ دے کر کامیاب کیا تھا۔ سی ایس یو نے ناراض کارکنوں کو منانے کےلیے تارکین وطن کے متعلق سخت مؤقف اختیار کرلیا ہے۔

سی ایس یو سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ باویریا بورسٹ زیہوفر نے بھی ملکی وزیر داخلہ بننے کے بعد ملکی سطح پر تارکین وطن کے متعلق سخت اقدامات کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں