The news is by your side.

Advertisement

جرمنی کے شہریوں نے لاک ڈاؤن کو جمہوریت کی موت قرار دے دیا

برلن: جرمنی میں سیکڑوں شہریوں نے لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ کیا اور حکومت کی جانب سے کرونا کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو جمہوریت کی موت قرار دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے تین بڑے شہروں برلن، میونخ اور شٹٹگارت میں شہری پلے کارڈ اٹھائے سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے حکومت سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے دفتر کے سامنے ایک علامتی قبر کا کتبہ بھی رکھا جس پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے، پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات بھی شروع کردی۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لاک ڈاؤن اور سرکاری پالیسی سے اختلاف رکھنے والے چند عناصر نے جرمن چانسلر کے دفتر کے سامنے علامتی قبر کا کتبہ رکھا اور اُس پر پھول ڈال کر شمعیں بھی روشن کیں‘۔

مظاہرین کی جانب سے رکھے گئے کتبے پر ’آزادی صحافت، آزادی اظہار رائے، نقل و حرکت اور ایک ساتھ جمع ہونے کی آزادی کے حوالے سے نعرے درج تھے اور لکھا گیا تھا کہ ’ہمیں جو 1990 میں جمہوری آزادی ملی حکومت نے اُسے اپنی موت آپ سلا دیا‘۔

واضح رہے کہ جرمنی میں یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے کم ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کی وجہ بروقت سخت اور غیر معمولی لاک ڈاؤن کو قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ امریکا اور برطانیہ میں بھی شہریوں کی ایک بڑی تعداد لاک ڈاؤن کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہے اور چھوٹے کاروبار کو بچانے کے لیے نرمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں