The news is by your side.

Advertisement

جرمنی یوکرین کو مزید ہتھیار دینے سے پیچھے ہٹ گیا

برلن : جرمنی کی وزیر خارجہ اینالینا بیرباک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ جرمنی ہتھیاروں کے شعبے میں یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا لیکن شاید ہی اپنے فوجی ذخیرے کو مزید استعمال کرسکے گا۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یوکرین کو کھیپ بھیجنے کے لیے بونڈیسور کی انوینٹریز میں شاید ہی کچھ اور بچا ہو، یہ وہی بات ہے جس کا ذکر جرمن وزیر دفاع کرسٹین لیمبریچ نے پہلے بھی کیا تھا۔

تاہم یہ یوکرین کو جرمن دفاعی ٹھیکیداروں سے براہ راست نئے ہتھیار خریدنے سے نہیں روکتا۔ 26 فروری کو جرمن حکومت نے پہلی بار یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل کی منظوری دی۔

برلن نے کیف حکومت کو 1,000 ٹینک شکن ہتھیار اور 500 اسٹنگر میزائل بھیجے۔ اس دن کے اوائل میں رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ جرمنی نے نیدرلینڈز اور ایسٹونیا کو جرمن ساختہ پرانے ہتھیار یوکرین بھیجنے کی اجازت دے دی۔

دومارچ کو یہ خبر آئی کہ برلن نے کیف سے جن ہتھیاروں کا وعدہ کیا تھا وہ یوکرین کے حوالے کر دیے گئے۔ 3 مارچ کو، ڈی پی اے نیوز سروس نے رپورٹ کیا کہ جرمن حکام نے یوکرین کو 2,700 اسٹریلا طیارہ شکن میزائل فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یاد رہے کہ 24 فروری کوروسی صدر ولادیمیر پوتن نے دونباس جمہوریہ کے سربراہان کی مدد کی درخواست کے جواب میں ایک خصوصی فوجی آپریشن کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو یوکرین کے علاقوں پر قبضے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے بعد امریکہ یورپی یونین، برطانیہ اور کچھ دوسرے ممالک نے روسی افراد اور قانونی اداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں