The news is by your side.

Advertisement

جرمنی: حجاب پر پابندی کی تجویز، اساتذہ نے بھی حمایت کردی

ویسٹ فیلیا:  جرمنی کی ایک ریاست نے چودہ برس سے کم عمر بچیوں کے حجاب پر پابندی کی تجویز پیش کی ہے، جس کی حمایت اساتذہ کی تنظیموں نے بھی کردی۔

تفصیلات کے مطابق نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی حکومت کو اس بات کی پریشانی لاحق ہوگئی ہے کہ مسلمان بچیاں اسکول میں سر پر اسکارف یا حجاب کیوں لیتی ہیں، نوعمر بچیوں کو مذہبی وجوہ کی بنا پر سر کے بال نہیں ڈھانپنے چاہیے۔

ریاست کے ایک وزیر یوآخم اسٹامپ نے حجاب پر پابندی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچیوں پر حجاب کے سلسلے میں والدین کی جانب سے زبردستی نہیں ہونی چاہیے، ہم اس عمل کی مخالفت کرتے ہیں اور اسکولوں میں اسکارف یا حجاب پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

حجاب پر پابندی کی تجویز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اساتذہ کی ایک تنظیم کے صدر ہائنز پیٹر مائڈنگر نے کہا کہ اس پابندی سے مذہبی بنیادوں پر امتیاز ختم ہونے میں مدد ملے گی اور وہ لوگ جو حجاب کے رد عمل میں مذہب کی مخالفت کرنے لگتے ہیں، ان کے برے برتاؤ میں بھی کمی آئے گی۔

دوسری طرف مذکورہ تجویز پر جرمنی کی اسلامی کونسل نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ کونسل کے چیئرمین برہان کسیجی نے کہا کہ ریاست ایک ایسی بحث چھیڑنا چاہتی ہے جو نہایت کھوکھلی ہے اور عوام میں اپنی مقبولیت کے لیے ایک سستی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک فرسودہ خیال ہے کہ مسلمان لڑکیوں کو زبردستی اسکارف لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

یورپی عدالت نےملازمین کےحجاب پہننے پر پابندی عائد کردی

مذکورہ تجویز پر جرمن ریاستوں کے وزرائے تعلیم کی کانفرنس کے سربراہ ہیلمٹ ہولٹر نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو حجاب پر پابندی کے متعلق سوچنے کی بجائے اسکولوں میں جمہوری تعلیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں حجاب کی مخالفت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً افسوس ناک واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، گزشتہ ماہ ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کو اسکارف پہننے کی وجہ سے ملازمت دینے سے انکار کردیا گیا تھا جب کہ گزشتہ برس ایک بس ڈرائیور نے باحجاب خاتون کو بس میں بٹھانے سے انکار کردیا تھا اور ایک جرمن عدالت کے جج نے شامی خاتون سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں