خدائے سخن مرزا غالب کا آج 218 واں یومِ پیدائش منایا جارہاہے -
The news is by your side.

Advertisement

خدائے سخن مرزا غالب کا آج 218 واں یومِ پیدائش منایا جارہاہے

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔

غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔

1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہوگئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہہ کردہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد

عالم تمام حلقہ دام خیال ہے

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کرلی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کردیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔

مرزا کی شاعری میں جدت، بانکپن اور جدید تشبیہات و تراکیب نے ان کے طرزِ سخن کو ایک ایسی دائمی تازگی بخشی، جس میں آج بھی شگفتگی کا احساس مؤجزن نظر آتا ہے، غالب کی شاعری میں روایتی موضوعات یعنی عشق، محبوب، رقیب، آسمان، آشنا، مہ، جنون اور ایسے ہی دیگر کا انتہائی عمدہ اور منفرد انداز میں بیان ملتا ہے۔

ہیں دنیا میں اور بھی سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِبیاں اور

مرزا غالب اردو اور فارسی شاعری میں یدِ طولیٰ کا درجہ رکھتے ہیں ان کا دیوانِ غالب (اردو)، کلیاتِ غالب( فارسی) بے پناہ مشہورہیں۔ نظم کے ساتھ مرزا کی نثربھی پڑھنے کی شے ہے حالانکہ مرزا کے نثری مجموعے  محض خطوط پرمشتمل ہیں تاہم انہیں اردو ادب میں بلند مقام حاصل ہے۔

کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی انتقال سے قبل اکثرغشی طاری رہنے لگی اوراسی حالت میں 15فروری 1869ء کو دہلی میں انتقال فرمایا۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں