اتوار, ستمبر 6, 2026
اشتہار

ذوق کے ساتھ غالب کا جھگڑا اور جواں بخت کا سہرا

اشتہار

حیرت انگیز

ہمارے اردو کے ممتاز شعرا میں ابراہیم ذوق اور مرزا اسد اللہ خان غالب، بہادر شاہ ظفر کے دربار سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان سخت نوک جھونک ہوتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ذوق اور غالب کی معرکہ آرائی معاصرانہ چشمکوں سے زیادہ حیثیت کی نہ تھی لیکن ذوق کے مقابلے میں غالب کے یہاں معاندانہ جذبات زیادہ نظر آتے تھے۔ ناقدین ادب نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔

اردو ادب اور مشاہیر سے متعلق تحریریں‌ پڑھنے کے لیے کلک کریں

بادشاہ کی ملکہ زینت محل کی فرمائش پر مرزا جواں بخت کے سہرے کے موقع پر ذوق اور غالب کے درمیان کافی حملے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اردو کے ممتاز ادیب محمد حسین آزاد نے ذوق و غالب کے ایک معرکے کا حال بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب ’’آب حیات‘‘ میں درج کیا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ ناقدین ادب میں مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد دونوں نے بیک زبان اس بات کی گواہی دی ہے کہ ذوق اور غالب دونوں ہی طبعاً ایسے نہ تھے جو کسی کی طرف سے دل میلا کرتے یا کسی کی ہجو کر کے اسے آزار پہنچاتے۔

پروفیسر احتشام حسین نے اپنے مضمون ’’ذوق و غالب‘‘ میں دونوں ہم عصروں کی باہمی چشمک کی جو وجوہات بتائی ہیں وہ انہی کے الفاظ میں درج کی جاتی ہیں۔ شعراء حساس ہوتے ہی ہیں اگر انہیں ایک دوسرے سے شکایت رہی ہو تو تعجب نہ ہونا چاہیے۔‘‘

’’اتفاق تھا کہ بہادر شاہ ظفر نے اپنی ولی عہدی کے زمانے میں ذوق کو اپنا استاد بنا لیا اور گو انہیں صرف چار روپے مہینہ تنخواہ ملتی تھی لیکن یہ اعزاز کیا کم تھا کہ لال قلعہ میں ان کی رسائی تھی اور شہزادے انہیں استاد ذوق کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ معلوم نہیں کہ ابتداً غالب نے اس کا اثر لیا یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک طرف تو وہ اس اعزاز سے محروم رہے دوسری طرف وہ فارسی آمیز اردو شاعری، وہ بیدل کا رنگ فکر جس میں شعر کہنا وہ خود بھی قیامت سمجھتے تھے، دلّی کے عام حلقوں میں مقبول نہ ہو سکا۔

سر دست اس بحث کو طول نہ دیتے ہوئے ہم ذوق اور غالب کے درمیان پیش آئے ایک معرکے کی روداد پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح غالب نے بادشاہ کے بیٹے کا سہرا لکھ کر شاہ ظفر کے استاد ذوق کو چیلنج کیا تھا۔ ذوق کے ساتھ ان کے جھگڑے کی اسی صورت حال کے دوران بادشاہ کی ملکہ زینت محل نے غالب سے مرزا جواں بخت کی شادی کے موقع پر ایک سہرا لکھنے کی فرمائش کی۔ غالب نے حکم کی تعمیل میں یہ سہرا لکھ کر پیش کیا۔

ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا

اگرچہ مقطع میں بظاہر ایسی کوئی بات نہیں تھی جو دونوں استادوں کے درمیان نزاعی جنگ اختیار کر لیتی مگر چونکہ دلوں میں پہلے سے غبار موجود تھا اور اس سے پیشتر’ بنا ہے شہ کا مصاحب‘ والی باتیں تحت الشعور میں بیٹھی ہوئی تھیں پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ خود غالب دربار میں جگہ پا چکے تھے، اس لیے اس شعر کو ذوق کے لیے چیلنج تصور کیا گیا۔

غالب کی جانب سے اس حملہ کے بعد ظاہر ہے استاد ذوق نے محاذ سنبھالا۔ ان کے لیے اس سے بہتر اور کون سا موقع میسر آسکتا تھا۔ انہوں نے غالب کے سہرے کو سامنے رکھ کر جواباً سہرا لکھا اور اپنے مقطع میں غالب کے چیلنج کو قبول کر کے بھرپور جواب دیا۔

جس کو دعوی ہے سخن کا یہ سنا دے اس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا

دو بڑے شعرا کے درمیان ایک ہی زمیں پر لکھا گیا سہرا پڑھ کر ناقدین ادب آج بھی اس پر بحث کرتے ہیں۔ کسی کو غالب کا تو کسی کو استاد ذوق کا سہرا اچھا لگتا ہے۔ لیکن بعض ناقدین نے لکھا ہے کہ بلاشبہ ذوق کا لکھا ہوا سہرا فنی اعتبار سے بلند ہے اور اس اعتبار سے بھی وہ ذوق کے لیے مشکل تھا کہ اسی زمین میں غالب نے پہلے لکھ دیا تھا لہٰذا استاد ذوق نے شان دار جواب دے کر کمال فن کا مظاہرہ کیا تھا۔

جب بہادر شاہ ظفر کے دربار تک ذوق کے سہرے کی گونج سنائی دی اور غالب کو معلوم ہوا کہ بادشاہ کے استاد سے ٹکر لینے میں ان کے لیے خیر نہیں ہے اس لیے موقع کی نزاکت محسوس کر کے غالب نے ایک معذرت نامہ بادشاہ کی خدمت میں روانہ کیا جس کے کچھ اشعار پیش ہیں۔

منظور ہے گزارش احوال واقعی
اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
سو سال سے ہے پیشہ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
آزاد رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں
ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول کا غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

کہا جاتا ہے کہ غالب کے ان اشعار کو پڑھ کر بہادر شاہ ظفر نے غالب کو بخش دیا تھا۔

(برماور سید احمد سالک ندوی، بھٹکلی کی ادبی تحقیق پر مبنی ایک تحریر سے اقتباسات)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں