The news is by your side.

Advertisement

افغان صدر نے طالبان قیدیوں کی رہائی کے حکمنامے پر دستخط کردئیے

کابل : افغان صدراشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کے حکمنامے پردستخط کردئیے، جس کے بعد  1500 افغان طالبان قیدیوں کوامریکا اورافغان طالبان کے معاہدے کے تحت رہا کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افغان امن معاہدے کے تحت ڈیڑھ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی، طالبان اپنے ڈیڑھ ہزار قیدیوں کے تبادلے میں ایک ہزارسرکاری فوجی حکومت کےحوالے کریں گے، افغان صدر کی منظوری کے مطابق روزانہ سو طالبان قیدی جیلوں سے چھوڑے جائیں گے۔

افغان میڈیا کے مطابق فروری میں امریکا اورافغان طالبان کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت پندرہ سوافغان طالبان قیدیوں کو رہا  کیا جائے گا، قیدیوں کی رہائی کا آغاز چودہ مارچ کو پروان جیل سے ہوگا۔

افغان طالبان قیدیوں کو بائیومیڑک کے بعد رہا کیا جائے گا اور رہائی پانے والے افغان طالبان دوبارہ پر تشدد کارروائیاں نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی دیں گے۔

مزید پڑھیں : اقوام متحدہ نے امریکا طالبان معاہدے کی توثیق کر دی

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے تشدد میں خاطر خواہ کمی کی تو بتدریج پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا۔

خیال رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا اور افغان طالبان معاہدے کی متفقہ طور پر توثیق کردی ہے، قراداد میں امن عمل آگے بڑھانےاور انٹرا افغان ڈائیلاگ پرزور دیاگیا۔

یاد رہے امریکہ طالبان سے مذکرات کے نتیجہ میں اپنی فوجی قوت میں کمی کررہا ہے، اس سلسلے میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بالآخر شروع ہوگیا ہے، افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے جاری بیان میں کہا تھا کہ معاہدے کے تحت امریکی افواج کی تعداد میں مشروط کمی کررہے ہیں۔

کرنل سونی لیگیٹ نے بتایا تھا کہ افغانستان میں 12 سے 13 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، ابتدائی طور پر امریکی افواج کی تعداد گھٹاکر 8600 کی جائے گی۔

واضح رہے کہ 29 فروری کو قطری دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکا میں معاہدے پر دستخط ہوئے تھے ، دوحہ میں ہونے والے معاہدے کی رو سے امریکا 135 روز میں تقریباً 5 ہزار فوجی نکالے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں